ٹیکسٹ میسیجنگ اور امدادی کام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیا میں سونامی لہروں سے آنے والے طوفان کے بعد موبائل فون کے ذریعے تحریری پیغامات بھیجنے یعنی ٹیکسٹ میسیجنگ کی ٹیکنالوجی خاصی سودمند ثابت ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ موبائل فون میں سگنل کم ہونے کے باوجود بھی تحریری پیغامات باآسانی ایک سے دوسری جگہ بھیجے جا سکتے ہیں۔ بعض حلقے اس اب یہ مطالعہ کرنے میں مصروف ہیں کہ ٹیکسٹ میسیجنگ کی ٹیکنالوجی کو ہنگامی حالات میں مزید بہتر طور پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سنجیا سنانائکے کام تو سری لنکا ٹی وی کے ساتھ کرتے ہیں لیکن انٹرٹیٹ پر بلاگروں کی دنیا میں انہیں مورکندی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مورکندی ان افراد میں سے ایک تھے جو سری لنکا کے ساحلوں پر سونامی سے ہونے والی بربادی کے بعد سب سے پہلے منظر عام پر آئے تھے۔ عام ٹیلی فون قابلِ اعتماد نہ رہے تھے اور موبائل فون کے سگنلک انتہائی کمزور ہو چکے تھے۔ اس لیے مورکندی نے ٹیکسٹ میسج بھیجنا شروع کیے جو نہ صرف سونامی کی تازہ خبروں پر مبنی تھے بلکہ ان میں یہ تفصیل بھی درج تھی کن لوگوں کو کن مقامات پر کیا کیا چاہیے۔ بھارت میں بلاگ لکھنے والے افراد نے مورکندی کے میسیج موصول ہوتے ہی انہیں انٹرنیٹ پر ’ڈاگز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کے نام سے شائع ہونے والے بلاگ میں شائع کر دیا۔ یوں ہزاروں لوگوں نے سونامی کے بارے میں ٹیکسٹ میسیجوں کی مدد سے بھیجی گئی تفصیل پڑھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||