 |  مالدیپ کا سونامی سے متاثر ہونے والے ملکوں کی بنسبتاً جانی نقصان کم ہوا ہے۔ |
سونامی سے متاثر ہونے کے بعد ملکی اساتذہ نے مالدیپ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور استعفی دے کے اپنے ملکوں کو چلے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مالدیپ میں کام کرنے والے غیر ملکی اساتذہ میں سے بارہ واپس اپنے ملکوں کو چلے گئے ہیں۔ ان اساتذہ میں اکثریت پاکستان ، جنوبی ہندوستان اور سری لنکا سے ہے۔ احمد مانک نے جو مالدیپ میں غیر ملکی اساتذوں کے رابطہ افسر ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مالدیپ میں ان اساتذہ کے گھر چھبیس جنوری کو آنے والے سونامی میں تباہ ہو گئے ہیں اور وہ اس تباہی سے نمٹنا مشکل محسوس کر رہے ہیں۔ احمد مانک نے بتایا کہ ان اساتذہ میں سے بعض کے لیے سونامی دوہرا سانحہ ثابت ہوا ہے ۔ ان میں سے بعض اپنے ملکوں میں والدین اور عزیز و اقارب کھو چکے ہیں اور مالدیپ میں ان کے گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ مالدیپ میں اس وقت پندرہ سو غیر ملکی اساتذہ ہیں اور سونامی کے دوران وہ تمام بچ گئے ہیں لیکن ان میں اکثریت کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ مالدیپ میں اناسی سکول بلکل تباہ ہو گئے ہیں۔ مالدیپ کے وزیر دفاع اسماعیل شیمو نے بتایا کہ مالدیپ میں سکولوں کو کھولنا حکومت کی اولیت میں شامل ہے ۔ مالدیپ میں سونامی سے متاثرہ ممالک کی بنسبتاً جانی نقصان کم ہوا ہے لیکن مالی نقصان بہت زیادہ ہے۔ مالدیپ نے مالی امداد دینے والے ملکوں سے کہا ہے کہ اس کو سونامی کی تباہی سے نمٹنے کے لیے اس کو 1.5 ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاکہ وہ پندرہ ہزار بے گھر ہو جانے والے افراد کو دوبارہ گھر بنانے میں مدد فراہم کر سکے۔ |