BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 January, 2005, 18:38 GMT 23:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد: وعدے اوروعدہ خلافیاں

News image
سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ بتائی جارہی ہے
بحر ہندکےزلزلے اورسونامی سے تباہ حال انسانوں کی مدد کےلۓ دنیا کے عزم کو اگر پیسے میں تولا جائے تو دو ارب ڈالر کے وعدے ہوچکے ہیں جن میں سب سےبڑے جاپان (پانچ سو ملین) ، پھر امریکہ (ساڑھے تین سو ملین) اور عالمی بینک نے ڈھائ سوملین کے وعدے کیے ہیں۔ امدادی کارروائیاں بھی زور شور کے ساتھ شروع ہو گئی ہیں اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا ضمیر واقعی جاگ اٹھا ہے اور انسان کی ہمدردی کے لۓ انسان دوڑ رہا ہے۔

لیکن اگر ماضی ہمیں کوئی سبق دیتا ہے تو یہ کہ وہ ممالک جو پہلی دنیا کی صف میں شمار کیے جاتے ہیں ان کی عادتیں بگڑ چکی ہیں۔ جب بھی کسی انسانی تباہی پر کو دکھانے کے لئے بین الاقوامی ٹیلی وژن کیمرے دوڑے دوڑے پہنچتے ہیں توامدادی وعدوں کے ڈھیر لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔ چندہفتوں تک محسوس ہوتا ہے کہ واقعی تباہی کو خوش حالی میں بدلنے کے لۓمغرب والے یعنی پہلی دنیا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ جہاز آتے ہیں، ہیلی کاپٹر آتے ہیں، پانی آتا ہے، کھانا آتا ہے، بڑی بڑی مشینیں، کرینیں آتی ہیں ۔دلوں میں امیدوں کے دریا موجزن ہوجاتے ہیں۔

لیکن ایک دو ہفتےکے بعد جب ٹیلی وژن کے کیمرے اپنے اپنے ملکوں کی راہ لیتے ہیں تو مدد کے وعدے بھی ٹال مٹول کی شکل اختیار کرنے لگتے ہیں۔ جہازوں، ہیلی کاپٹروں، ڈاکٹروں کی سرکاری ٹیموں کے اخراجات امدادی رقومات میں سے کاٹ لی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مقامی انتظامیہ میں اتنی اہلیت نہیں ہے کہ بڑی بڑی رقومات کو ترقیاتی کاموں پر صرف کرسکے۔ جونہی مقامی حکومت خود کو اس کا اہل ثابت کردے گی وعدے کی امدادی رقومات ادا کردی جائیں گی۔

جس وقت انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے ساحل سے کچھ فاصلے پر سمندر کی تہہ میں زلزلہ آرہا تھا اس وقت کئ ہزار میل دور ایران کے شہر بام میں اس زلزلے کا سوگ ختم ہوا تھا جو ٹھیک ایک سال اور اٹھاون منٹ پہلے یہاں تباہی مچا چکا تھا۔ چھتیس ہزار انسان اس میں فنا ہوئے تھِے۔ دنیا نے ایک ارب ڈالر امداد کا وعدہ کیا تھا۔ صدر محمد خاتمی کا بیان ہے کہ سال کے خاتمے پر اس میں سےصرف سترہ ملین ڈالر ملے ہیں۔ سن دو ہزار میں موزمبیق کے تباہ کن سیلاب کے بعد وعدہ شدہ رقومات میں سے آدھی کی ادائیگی ہوئی ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں ہونڈوراس اور نکاراگوا کے سمندری طوفانوں کے بعد پونے نو بلین ڈالر کے وعدے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک تہائی وعدےپورے ہوئے ہیں۔

گجرات، بنگلہ دیش، وسطی امریکہ جہاں بھی گزشتہ تین سال کے دوران آفتیں اور تباہیاں آئی تھیں اور مدد کے وعدے کیے گۓ تھے کہیں بھی ان وعدوں کا ایفا نہیں ہوا ہے۔

ان وارداتوں اور واقعات میں بھی جو خود انسانوں کے پیدا کردہ ہوتے ہیں مغرب والوں کا یہی حال ہے۔ بوسنیا، کوسوو، افغانستان، کینیا ہر جگہ یہی کہانی دہرائی جارہی ہے۔ افغانستان کے لۓ سن دوہزار دو میں آئندہ پانچ سال کے دوران پانچ اعشاریہ نو بلین ڈالر کا وعدہ ہوا تھا۔ دو ہزار چار میں امریکہ نے مزید ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر کا وعدہ کیا۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ امریکہ افغانستان پر قبضے کے لۓ کم و بیش ایک بلین ڈالر مہینہ خرچ کرر رہا ہے یہ امداد کچھ زیادہ نہیں تھی۔ لیکن اس میں میں سے بھی صرف آدھی افغانستان تک پہنچ پائی تھی۔ اور آدھی بھی کیسے خرچ کی جارہی ہے؟ سڑکوں کی تعمیر نو کے لۓ تین سو ملین ڈالر مختص کیے گۓ۔ امریکہ کی تعمیری فرم بچٹیل کو ٹھیکہ دیا گیا جو چار لاکھ ڈالر فی کلومیٹر سڑک کے حساب سے یہ رقم خرچ کررہی ہے۔ گویاایک امریکی فرم امریکی پیسے سے امیر سے امیر تر ہو رہی ہے۔

وعدہ خلافی امیر ملکوں کی عادت بن چکی ہے۔ ابھی چار ہفتے پہلے آکسفیم نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ، جرمنی اور جاپان جیسے ملکوں نے انیس سو ستر کی دہائی میں وعدہ کیا تھا کہ اپنی قومی آمدنی میں سے صفر اعشاریہ سات فیصد حصہ غریب ملکوں کے لۓ دیا کریں گے۔ چونتیس سال گزرنے کے باوجود کسی ایک نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے اور کسی نے یہ نہیں کہا کہ کب سے یہ مدد دینا شروع کریں گے۔

نتیجہ یہ ہے کہ آج امیر ملکوں کا امدادی بجٹ انیس سو ساٹھ کے مقابلے میں آدھا رہ گیا ہے جبکہ غریب ملکوں کی گردن پر سوار ہوکرسوملین ڈالر یومیہ اگلوا لۓ جاتے ہیں جسے قرضوں کی واپسی کہا جاتا ہے۔


بحرہند کاطوفان، ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک
متاثرینایڈ ورکر کی ڈائری
امدادی کارروائیاں اور کارکن کی مصروفیات
سونامیسونامی اور انٹرنیٹ
امدادی کارروائیوں میں انٹرنیٹ موثر ذریعہ
سونامی سے تباہیسونامی:امدادپر ویڈیو
مجموعی امداد ایک ارب پاؤنڈ سے بڑھ گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد