تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحر ہند میں سونامی کی تباہی کے ایک ہفتے بعد بھی ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں شاید کبھی پتہ نہ چل سکے کیونکہ بہت سی لاشیں سمندر میں بہہ گئی تھیں۔ سونامی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ اس سانحے میں اس کے چورانوے ہزار شہری ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد اب ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔
سری لنکا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں ہلاک ہونے والے اٹھائیس ہزار افراد میں سے چالیس فیصد بچے تھے۔ سانحے سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع ہو چکی ہے۔ بحرہ ہند کے مختلف علاقوں میں جو سونامی کی زد میں آئے اٹھارہ لاکھ افراد خوراک کی ضرورت ہے۔ پچاس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ انڈونیشیا کے متاثرہ علاقوں میں امریکہ، آسٹریلیا اور ملیشیائی فوج ضروری سامان پہنچا رہی ہے۔ انڈونیشیا میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروے کا کہنا ہے غیر ملکی امدادی کارکن پہلی بار تباہی کے آثار دیکھنے پر دنگ رہ جاتے ہیں۔ دریں اثناء تھائی لینڈ اور جاپان کی بحریہ تھائی لینڈ کے ساحل کے ساتھ ساتھ سویڈن کے لاپتہ شہریوں کی لاشیں تلاش کر رہی ہے۔ سویڈن کے تقریباً تین ہزار شہری لاپتہ ہیں۔ اسی دوران دنیا بھر سے وعدہ کی جانے والی امدادی رقم دو ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہنگامی صورتحال کے دوران امدادی رابطہ کار نے امید ظاہر کی ہے بین الاقوامی برداری صورتحال سے نمٹنے میں کامیاب رہے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے متنبہ کیا کہ دور دراز علاقوں میں امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق بہت سے علاقوں میں امداد پہنچانے میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ بھارت کے جزائر انڈمان اور نکوبار میں لوگوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔ مقامی آبادی نے امداد کی فراہمی میں سست روی پر احتجاج کیا ہے۔ ان جزائر پر بھارتی فضائیہ کے اڈوں کی وجہ سے حکومت امدادی تنظیموں پر نظر رکھنا چاہتی ہے۔ جزائر سے فسادات کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||