 |  بندہ اچے کے ایک سکول میں دیوار پر لکھی اپیل |
26 جنوری کو سونامی کے نتیجے میں بحرِ ہند میں آنے والی تباہی کو ایک مہینہ ہوگیا ہے۔ سونامی کے نتیجے میں آنے والی اس لہر سے خطے میں لگ بھگ ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سونامی کے بعد عالمی برادری اور خصوصاً امیر ممالک کی طرف سے ملنے والی فوری امداد پر اقوامِ متحدہ نے خوشی کا اظہار کیا تاہم ادارے کا کہنا تھا کہ سونامی کے نتیجہ میں ترقی یافتہ ممالک کو دنیا بھر میں موجود دوسرے بحران نہیں بھولنے چاہئیں جنہیں توجہ کی ضرورت ہے۔ ادھر برطانوی خیراتی ادارے آکسفیم نے کہا ہے کہ سونامی کے بعد امداد کے طور پر اقوام متحدہ کی طرف سے مانگے گئے ایک ارب ڈالر میں سے صرف آدھی رقم مل سکی ہے۔ رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے مزید چار ارب ڈالر کی مطلوبہ امداد کا بندوبست ہو جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی ادارے کا خیال ہے کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں تشویش کی گنجائش ہے۔ ادارے کے مطابق ایران کے شہر بام میں دو ہزار تین میں زلزلے کے بعد بتیس ملین ڈالر کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن صرف سترہ ملین ڈالر حاصل ہو سکے تھے۔ آپ کے اس کے متعلق کیا تاثرات ہیں؟ کیا سونامی کے لیے عالمی برادری کی طرف سے دی جانی والی امداد کافی ہے؟ سونامی سے تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیر نو کے لیے کیا کیا جانا چاہیے؟ یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ متاثرین ازسرِ نو اپنی زندگی کا آغاز کرسکیں؟ مستقبل میں اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟
اسی بارے میں:
یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
سعد طارق، صادق آباد: جناب ہم بذاتِ خود خوش ہوتے ہیں تو ساری دنیا خوشی میں ڈوبی دکھائی دیتی ہے اور خود پی سوگ طاری ہو تو وہی کیفیت باقی دنیا کی لگتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو تو بس اپنی فکر ہے باقی دنیا چاہے جیے یا مرے۔ اس سے دس گنا امداد سے بھی ان کی تعمیرِ نو تو ممکن نہیں۔ شریف اللہ خان مری، بلوچستان: جو لوگ سونامی متاثرین کے لیے پیسہ جمع کررہے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ یہ پیسہ کافی ہے یا نہیں اور یہ متاثرین تک پہنچے گا یا نہیں۔ ہم تمام متاثرین کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ عامر محمودفاروقی، ملیشیاء: سونامی کے متاثرین کے لیے امداد دگنا کرنی ہوگی کہ دس لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوچکے ہیں۔ اس امداد کے لوگوں تک پہنچانے کے خصوصی انتظامات کرنے ہوں گے تاکہ کچھ ضائع ہوئے بغیر مستحق لوگوں تک پہنچ سکے اور بدعنوانوں سے بچ جائے۔ پھر سب سے زیادہ اہم آئندہ کے لیے وارننگ سسٹم ہے۔ پوہیں چک پلوچانی، کوئٹہ: خدا ان کی مدد کرتا ہے جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ ریاض فاروقی، کراچی: اب تک جو سنا ہے اس ے تو لگتا ہے کہ ساری دنیا نے ایسے ہی امداد دی ہے جیسے یہ سانحہ ان ہی کے ملک میں پیش آیا ہو۔ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ کم از کم دکھ میں تو ہم ایک دوسرے کے بارے میں سوچتے ہیں نہ کہ مذہب، ذات پات، لسانیات کے بارے میں۔ سونامی نے اگر بہت سی امیدوں کو توڑا ہے تو کچھ نئی امیدوں کو جنم بھی دیا ہے۔ باقی جہاں تک امداد کے پورا ہونے کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ اتنی امداد بہرحال نہیں جمع ہوسکے گی، جتنی وہاں پر ضرورت ہے لیکن جو جگہیں سالوں میں بنتی ہیں ان کو بننے میں کچھ وقت تو لگتا ہی ہے۔  | زندہ بچ جانے والے۔۔۔  مرنے والے واپس آنہیں سکتے اور زندہ بچ جانے والے ہمیشہ ایک احساسِ محرومی اور ڈر میں رہیں گے۔  سارا خان، پشاور |
سارا خان، پشاور: سونامی نے جتنی تباہی پھیلائی، وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ اب تعمیرِ نو بہت جلد ممکن نہ ہوگی چاہے جتنی بھی امداد کیوں نہ کی جائے۔ مرنے والے واپس آنہیں سکتے اور زندہ بچ جانے والے ہمیشہ ایک احساسِ محرومی اور ڈر میں رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے تنبیہ تھی، جب تک ہم ایک دوسرے کا خون بہاتے رہیں گے، اس طرح کے طوفان آتے رہیں گے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر کڑی آزمائش کے لیے خود کو تیار رکھیں اور مالی، اخلاقی، سائنٹفک اور تیکنیکی ترقی حاصل کریں تاکہ دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چل سکیں۔جبران حسنین، کراچی: امداد اگر صحیح طریقے سے استعمال ہوجائے تو بہت اچھی بات ہے۔ لیکن سونامی سے جہاں لوگ غریب اور بےگھر ہوئے ہیں وہاں اس امداد سے ہزاروں لوگ مال دار ہوگئے ہیں۔ پاکستان کا حال سب کو یاد ہے۔ یہاں جب ایسا ہوا تو امداد بازاروں میں بک رہی تھی۔ بس دعا کریں کہ امداد مستحق کو پہنچ جائے۔ شہزاد نوید، مانچسٹر: امداد بہت ہی زیادہ ہے کیوں کہ یہ امداد ان لوگوں تک نہیں پہنچے گی جن کو ضرورت ہے بلکہ ان تک پہنچے گی جو بانٹیں گے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: اگر یوروپین یونین ہی دل کھول کر مدد کرتی تو تمام مسائل حل ہوجاتے۔ علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان: المیہ یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے نمبر بنانے کے چکر میں پڑا نظر آتا ہے۔ ذیشان طارق، سیالکوٹ، پاکستان: سونامی کے لیے دی گئی امداد کافی تو تب ہوسکتی ہے جب پوری رقم ملے گی۔ اب تک ملنے والی رقم سے بدعنوان سیاستدانوں اور کمپنیوں کے پیٹ بھرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ جب یہ سلسلہ ختم ہوگا تو متاثرین کی باری آئے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ متاثرین کی بھرپور طور پر نہ صرف مالی بلکہ اخلاقی امداد بھی کی جائے۔ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں وارننگ سسٹم صرف ترقی یافتہ ممالک تک ہی محدود نہ رہے۔ شہزادہ مدثر، جھنگ: سونامی کے متاثرین کے لیے جتنی بھی امداد کا اعلان کیا گیا ہے، ابھی تک اس کا نصف بھی متاثرین تک نہیں پہنچا۔ امداد کی جلد از جلد فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ کھلے آسمان تلے پڑے متاثرین کی صحیح معنوں میں عملی مدد ممکن ہو۔ شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات: سونامی کے سانحے کو کم از کم آج کے دور کے لوگ تو کبھی نہ بھول پائیں گے۔ اس دوران ایسی ایسی قربانیوں کی مثالیں سامنے آئی ہیں جس سے یقین پختہ ہوگیا ہے کہ خدا اور اس سے محبت کرنے والے لوگ ابھی تک موجود ہیں۔ اہم یہ ہے کہ یہ سب کچھ بہت عام اور چھوٹے لوگوں نے کیا ہے جو خود اتنے خوش حال نہیں۔ سلمان ملک، لاہور: تمام مسلم ممالک کو متاثرین کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔
 | قرض نہ معاف کرسکے  وہ ممالک کیا مدد کریں گے جنہوں نے متاثرہ ممالک کے قرضے تک معاف کرنے سے انکار کردیا۔  نوید نقوی، کراچی |
نوید نقوی، کراچی: وعدہ تو سب نے کر لیا لیکن عمل اب تک نہ ہوا۔ وہ ممالک کیا مدد کریں گے جنہوں نے متاثرہ ممالک کے قرضے تک معاف کرنے سے انکار کردیا۔ سب ممالک کو یہ سوچنا چاہیے کہ کل یہ وقت ان پر بھی آسکتا ہے۔ میری التجا ہے کہ براہِ مہربانی اقوامِ متحدہ کو جتنا پیسہ درکار ہو، اس سے بڑھ کر دیجیے تاکہ ثابت ہو کہ آج بھی دنیا میں انسانیت موجود ہے۔ جبران خلیل، لاہور، پاکستان: ہم کیا کر سکتے ہیں ہمت کے مطابق جتنا ہوسکتا ہے کر سکتے ہیں۔ لیکن امریکہ کو دیکھیں جو تباہی میں تو سُپر پاور ہونے کا پورا ثبوت دے رہا ہے۔ ہر طرف ظلم اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے اور امداد دینے میں نہ آواز نکال رہا ہے بلکہ جان جا رہی ہے۔ یہاں سُپر پاور ہونے کا ثبوت کیوں نہیں دے رہا۔ باتوں کے امیر ، دل کے غریب لوگ۔ شعیب طارق، پاکستان: اگر امداد لٹیروں کی جیب میں پہنچنے سے بچ گئی تو میرے خیال میں کافی ہوگی۔ امداد کے لیے کی جانے والی کوششیں تو واقعی قابلِ قدر ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ میں دن میں اگر دس ویب سائیٹس پر جاتا ہوں تو ان میں سے نو پر سونامی امداد کی اپیل کا اشتہار موجود ہوتا ہے۔ یہی صورتحال دوسرے میڈیا پر بھی ہے۔ کرن جبران، واٹر لو، کینیڈا: سونامی کی تباہی تو بعد کی بات ہے پہلے عراق اور افغانستان کی تباہی جو انسان کے ہاتھوں انسان نے کی ہے اس کا تو ازالہ کر لیں۔ سونامی تو خدا کی طرف سے تباہی ہوئی اور اس کا ازالہ خدا ہے کر سکتا ہے۔ ہم اپنی کی ہوئی تباہی کی طرف توجہ نہیں دے رہے جس کی طرف پہلے توجہ کی ضرورت ہے۔ عفاف اظہر، ٹورانٹو، کینیڈا: سب سے پہلا قدم جو سونامی کی تباہی کی امداد کے لیے کرنا ہوگا وہ ہمیں اس چیز کو دماغ میں بٹھانا ہو گا کہ یہ سونامی کی شکل میں خدا کا قہر تھا اور اللہ نے ہمیں خبردار کیا ہے۔ ہمیں اپنی اخلاقی برائیاں دور کر کے انسانیت کی ترقی اور بھلائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم انسانیت بحال کریں گے تو خدا ہم پر آئی اس مصیبت کو ٹال کر اس تباہی پر جلد قابو پانے کی توفیق دے گا۔ صرف مذہب کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ فرخ بٹ، لاہور، پاکستان: میرے خیال سے یہ جتنی بھی امداد حکومتوں کی طرف سے بھیجی گئی ہے وہ صرف سیاسی بیان بازی ہے۔ حقیقت میں ان کو اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ کون جی رہا ہے اور کون مر رہا ہے۔ امریکہ تو صرف اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ لوگوں کو آباد کر رہا ہے اور دوسری جانب ملک در ملک اُجاڑ رہا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ خُرم، اٹک، پاکستان: امداد تو ضروری ہے لیکن جب تک اپنی مدد آپ کے تحت مسئلے کو حل نہیں کیا جائے گا امداد کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔ |