خبردار نہیں کیا، ہرجانے کا دعوٰی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں سونامی سے زندہ بچنے والے ایک شخص نے اس آفت سے متنبہ نہ کرنے پر حکومت کے خلاف مقدمہ کردیا ہے۔ پریانتھا پریرہ نے بی بی سی کو بتایا ’جب پہلی لہر آئی تھی تو میں نے پولیس ایمرجنسی کو فون کیا اور کہا کہ ہمیں فوری طور پر بچانے کے اقدامات کیے جائیں۔ یہ ادارے فوری ایکشن نہیں لیتے اور اگر وہ ایسا کرسکتے تو بہت سے افراد کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں‘۔ ’یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں تھی۔ زندگیاں بچانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے وہ ناکافی تھے۔ اگر حکومت کے پاس وارننگ جاری کرنے یا ریسکیو کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں ہیں تو ایسے قوانین بنانے چاہئیں تاکہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے‘۔ انڈونیشیا کے بعد سونامی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک سری لنکا ہے جہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً انتیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ سری لنکا میں سونامی کے باعث بہت سے بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ کم از کم تین ہزار سے زائد بچے ایسے ہیں جن کے ماں باپ میں سے ایک مر چکا ہے۔ یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد صرف کیمپوں میں رہنے والے بچوں کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||