سونامی :متاثرین کے لیے امداد کا ا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکومت نے حالیہ سمندری طوفان سے تباہ شدہ لاکھوں افراد کی دوبارہ آباد کاری کے لیے تقریبا 28 ارب روپے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ دسمبر کے آواخر میں تباہ کن سونامی لہروں سے تامل ناڈو، کیرالہ، آندھرا پردیش اور پانڈیچری میں دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھےجبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ مرکزی کابینہ کی ایک میٹنگ کے بعد وزیرخزانہ پی چدمبرم نے نامہ نگاروں سے با ت چیت کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا گیارہ ارب روپے ماہی گیروں کی آباد کاری پر صرف کیے جائیں گے جو اس طوفان میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ مرکزی کابینہ نے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے تقریباً ساڑھے سات سو کروڑ روپے کی مالیت سے ایک لاکھ ستر ہزار مکان تعمیر کروانے کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ امداد پانچ ارب روپے کی اس امداد سے علحیدہ ہے جس کا اعلان طوفان کی آمد کے ایک روز بعدکیا گیا تھا۔ اس مہینے کے اوائل میں حکومت نے سونامی لہروں سے ہونے والی تباہی کا اندازہ ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کا لگایا تھا۔ ہندوستان نے غیر ممالک سے امداد لینے سے یہ کہ کر منع کردیا تھا کہ وہ خود اس واقعے سے نمٹنے کا اہل ہے۔ تاہم حکومت نے اب عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے تعمیراتی منصوبوں کے لیے مدد مانگی ہے۔ سونامی لہروں کا قہر چھبیس دسمبر کی صبح ٹوٹا تھااور جنوبی ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں پوری کی پوری بستیاں سمندر کی طغیانی کی نظر ہوگئیں تھیں۔ متاثرین کی مدد کے لیے پورے ملک میں لوگ عطیات دے رہے ہیں۔ اب تک وزیر اعظم کے امدادی فنڈ میں پانچ سو کروڑ روپے سے زیادہ جمع ہوچکے ہیں۔ متاثرین کی مدد کے لیے فلم اسٹار سے لے کر سیاست داں تک ہر کوئی اپنے طور پر کوشش کر رہا ہے۔ انڈامان نکوبار جزائر بھی اس طوفان سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے ان جزائر کی آباد کاری کے لیے پہلے دو ارب کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ توقع کی جارہی ہے کہ کابینہ اس ہفتے کے آوخر میں مزید امداد کا اعلان کرے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||