BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 January, 2005, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونامی: لوگ خدا سے ناراض نہیں
انڈونیشیا کی ایک مسجد
انڈونیشیا کے کچھ علاقوں میں صرف مساجد سلامت بچی تھیں
بحر ہند میں سونامی کی تباہی کو لا مذہب افراد خدا کے نہ ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کر ہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر خدا ہوتا تو اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کی اجازت نہ دیتا۔ لیکن بری طرح متاثر ہونے والے علاقوں میں بہت سے افراد کا کہنا کہ ان کا ایمان متزنزل نہیں ہوا۔

ایک ہندو استانی گیتا مہیشورم کے دوست اور خاندان کے افراد سونامی میں ہلاک ہو گئے۔ سری لنکا میں ان کے ادارے کے پچانوے بچے بھی اس طوفان میں بہہ گئے لیکن وہ کہتی ہیں کہ یہ ہونا ہی تھا اور اس کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہونے والی تباہی سمجھ سے باہر ہے لیکن ہم خدا کو اس کا قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے۔

گیتا نے کہا کہ یہ تباہی لکھی جا چکی تھی اور اب اہم سوال یہ کہ ہم جو ہو چکا ہے اس سے کیسے نمٹتے ہیں۔

گیتا نے کہا کہ ہندومت میں بنانے والے اور تباہ کرنے والے خدا کا تصور موجود ہے اور اسی لیے ہندوؤں نے مذہب کے بارے میں سوالات نہیں اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ اس زندگی کا خاتمہ ہندوؤں کے نزدیک مکمل خاتمہ نہیں ہےاور ان کا ایمان ہے کہ ابھی بہت سی زندگیاں باقی ہیں۔

ایک اور شخص جن کا قدرتی آفت کا سامنا کرنے کے بعد ایمان نہیں ڈولا پانچ بچوں کے باپ اکسٹھ سالہ اکبر ہیں۔

اکبر ایران کے شہر بام کے باسی ہیں جہاں گزشتہ سال زلزلے میں تیس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا زلزلے میں بچ جانا معجزا تھا لیکن اگر وہ ہلاک بھی ہو جاتے تو ان کے خاندان والے اسے خدا کی مرضی قرار دیتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمان خدا کی مرضی کا تابع ہوتا ہے۔

اکبر نے کہا کہ بام میں زلزلے کے بعد لوگوں نہ سوچا کہ شاید خدا نے انہیں بھلا دیا ہے لیکن کچھ ہی دنوں میں ان کا خدا پر ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے کے بعد بام میں مذہبی تقریبات میں لوگوں کی حاضری پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔

ایک عیسائی تنظیم یونائٹڈ سوسائٹی کے ایڈگر رُوڈاک نے عیسائیوں پر زور دیا کہ انہیں اپنا ایمان نہیں چھوڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آرچبشپ رووان ولیمز نے بھی کہا کہ اس صورتحال میں ذہن میں سوال اٹھنا فطری بات ہے۔

روڈاک نے کہا کہ یہ ٹیکٹانک پلیٹوں کا اٹھنا ہی تھا کہ زمین پانی سے باہر آئی اور زندگی ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مسیح نے بھی صلیب پر خدا کو پکارا تھا کہ اس نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا عیسائیت کے مطابق خدا انسانوں کے ساتھ مل کر مشکل کا سامنا کرتا ہے، ان کے ساتھ روتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انسانوں کو مشکل کو بھلا کر بہتر مستقبل کی طرف بڑھنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد