کرغستان مظاہرے، محل پرقبضہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرغستان کے دارالحکومت بشکیک میں حکومت کے مخالف مظاہرین نے صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سینکڑوں مظاہرین محل کے احاطےمیں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور عمارت کی دوسری منزل سے جھنڈا لہرا رہے تھے۔ مظاہرین کے گھسنے کے ساتھ ہی محل سے پولیس غائب ہوگئی اور سرکاری افسران محل کے پچھلے دروازے سے نکلتے ہوئے دیکھے گئے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرکاری ٹی وی چینل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مظاہرین نے جنوب مغربی شہر باٹکن پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ قبل ازیں حزب اختلاف کے ہزاروں مظاہرین اور حکومت نواز فورسز کے درمیان تصادم ہوئے جن میں پتھروں اور ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا۔ کرغستان کے صدر عسکر اکایو کے بارےمیں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں تاہم قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ دارالحکومت کے مضافات میں یورپی تنظیم برائے سیکیورٹی اور تعاون (او ایس سی ای) کے افسران سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ سابق وزیر خارجہ اور حزب اختلاف کے ایک رہنما نے ایک روسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صدر او ایس سی ای کے علاوہ اور کہیں ہو ہی نہیں سکتے۔ تاہم او ایس سی ای کے ایک ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ دارالحکومت میں مظاہرے فروری اور مارچ میں ہونے والے انتخابات کے بعد ہوئے جن میں مخالف پارٹی کو بری طرح شکست اٹھانی پڑی۔ اس سے پہلے اسی طرح کے مظاہرے جارجیا اور یوکرین میں دیکھنے میں آئے جہاں پر عوامی مظاہروں کے ذریعے حکومتوں کو گرا دیا گیا۔ بی بی سی کی نامہ نگار مونیکا وٹلاک کا کنہا ہے کہ بشکیک میں مختصر وقت میں مظاہرین کی تعداد سینکٹروں سے دس ہزار تک پہنچ گئی۔ ایک اور صحافی نے بتایا کہ اس نے فائرنگ کی آواز بھی سنی تا ہم یہ معلوم نہیں کہ یہ فائر کس نے کیے۔ روس نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||