پاک ازبکستان معاہدے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ازبکستان کے رہنماؤں نے کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور مل کر دہشت گردی سے نمٹنے کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف دس سال میں ازبکستان کادورہ کرنے والے پہلے پاکستانی سربراہ مملکت ہیں۔ تاشقند میں ہونے والے مذاکرات میں صدر مشرف اور ازبکستان کے صدر اسلام کریموو نے وزیرستان اور پاک افغان سرحد پر شدت پسندی سے نمٹنے کے بارے میں بات چیت کی۔ خیال ہے کہ ان مذاکرات میں ازبک حکومت کے سب سے مطلوبہ شخص اور طالبان کے حامی طاہر یلداش کے بارے میں بھی بات ہوئی ہوگی۔ صدر مشرف نے دونوں ممالک کے درمیان ملزمان کے تبادلے کے لیے موثر معاہدے کی اہمیت پر زور دیا۔ انیس سو نوے کی دہائی میں پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ دونوں افغانستان میں مخالف گروہوں کی حمایت کر رہے تھے۔ لیکن اب دونوں ملک امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے حامی ہیں اور کابل میں نئی حکومت کی بھی حمایت کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں تجارتی رابطوں پر بھی زور دیا گیا۔ افغانستان میں امن کی بحالی کے بعد دونوں ملک تجارتی تعلقات میں اضافہ چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||