یشنکو کو کسی نے زہر دیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا یوکرین کے نو منتخب صدر وکٹر یشنکو کو زہر روس کے ایک سیاسی تھنک ٹینک کے احکامات پر دیا گیا تھا؟ یہ سوال ان دنوں روس اور یوکرین کی سیاست کا اہم موضوع ہے اور یہ وکٹر یشنکو کو زہر دیے جانے کی سازش کی تحقیقات کرنے والے یوکرین کے سرکاری وکیل اس معاملے کی اس زوایے سے بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ وکٹر یشنکو جو گزشتہ انتخابات میں حزب اختلاف کی طرف سے صدارت کے اہم امیدوار تھے بظاہر ’ڈائی آکسن‘ کی ضرورت سے زیادہ خوراک لینے سے شدید بیمار ہو گئے تھے۔ اس کے رد عمل سے ان کا چہر بگڑ گیا اور کچھ اطلاعات کے مطابق ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ سب سے پہلے یہ الزام ایک ویڈیو ٹیپ میں عائد کیا گیا ہے جو سرکاری وکیل نے اپنے قبضے میں لےلی ہے۔ بی بی سی سے نشر ہونے والے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ نے اپنے طور پر اس سازش کی تحقیق کی ہے اور اس ٹیپ کی ایک کاپی حاصل کر لی ہے۔ اس سازش کو مبینہ طور پر تیار کرنے والے گلیب پیلوسکی نےجو کہ کرملن کے لیے کام کرنے والے ایک ’تھنک ٹینک‘ کے سربراہ ہیں منگل کو ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکٹر یشنکو کی شکل بگاڑنے کا خیال ان کانہیں تھا۔ پیلوسکی کی فون پر بات چیت پر مبنی اس ٹیپ کو جب پہلی مرتبہ یوکرین کے ٹیلی ویژن چینل سے نشر کیا گیا تھا تو اس کو بہت سے لوگوں نے جھوٹی اور من گھڑت کہہ کر رد کر دیا تھا۔ اس کو پیلوسکی کے مخالفین کی سازش قرار دیا گیا تھا جس کا مقصد پیلوسکی کی ساکھ کو مجروح کرنا تھا۔ سکاری وکیل کی طرف سے اس ٹیپ کو اس مقدمے میں ایک شہادت کے طور پر پیش کرنے کے فیصلے نے بہت سے لوگوں کو بشمول پیلوسکی کو حیران کر دیا ہے۔ پیلوسکی نے نیوز نائٹ کے پروگرام میں کہا کہ جب یہ ٹیپ پہلی مرتبہ نشر کی گئی تو وہ اسے ایک مذاق سمجھا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||