چین میں جاپان کے خلاف مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں جاپان کے خلاف مظاہرے دوسرے روز بھی جاری رہے اور اب دوسرے شہروں میں بھی اس طرح کی ریلیاں ہو رہی ہیں۔ چینی لوگ جاپان میں چھپنے والی تاریخ کی ایک کتاب کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ جاپان کے جنگی مظالم پر پردہ ڈالا گیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ کتاب میں انیس سو تیس اور چالیس کی دہائی کے دوران جاپان کے چین پر قبضے کی تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جاپانی فوج نے چین کے شہر نان جنگ میں اڑھائی لاکھ شہریوں کا قتل عام کیا تھا لیکن کتاب میں اسے صرف ایک ’واقعہ‘ کہا گیا ہے۔ مظاہروں کا آغاز سنیچر کو دارالحکومت بیجنگ سے ہوا تھا جس میں دس ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔ سن انیس سو ننانوے کے بعد شہر میں یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ جاپان نے سنیچر کو مظاہرین کی طرف سے بیجنگ میں جاپانی سفارتخانے پر پتھراؤ کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ جاپان میں چین کے سفارتکار کو طلب کر کے اس واقعہ کے بارے میں باقاعدہ معافی مانگنے کو کہا گیا۔ اتوار کو چین کے جنوبی شہر گوانگ ذو میں تین ہزار مظاہرین نے جاپانی کونسل خانے کے باہر احتجاج کیا اور جاپانی جھنڈے کو نذر آتش کیا۔ ایک جاپانی سفارتکار کا کہنا ہے کہ عمارت پر پتھراؤ کے نتیجے میں کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹے ہیں۔ مقامی حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مظاہرہ پر امن تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھاری پولیس نفری کو ہوشیار کیا ہے۔ اسی طرح کے مظاہرے چین کے دوسرے شہروں جیسے شین زین اور گوانگ دونگ میں ہوئے۔ جاپان کے سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کے لیے کوششوں کی وجہ سے بھی چین میں جاپان کے خلاف شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ جاپان کا کہنا ہے کہ سکولوں کے نصاب کی کتابیں حکومت نہیں چھاپتی بلکہ نجی کمپنیاں اور ضلعی ادارے ان کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||