کیوٹو پرٹوکول 16 فروری سے نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحفظ ماحولیات کا عالمی سمجھوتہ جو’ کیوٹو پروٹوکول‘ کہلاتا ہے بدھ سے نافذ ہورہا ہے۔ اس عالمی سمجھوتے کے تحت زمین کے بیرونی فضائی خول یعنی ’اوزون‘ کی تہہ کے لیے نقصان دہ گیسوں کا اخراج کم کرنے کے لیے رکن ملکوں کو لازمی اہداف دیے گئے ہیں۔ یہ گیسیں گرین ہاؤس گیسیں کہلاتی ہیں اور ترقی یافتہ ملک سب سے زیادہ ان کا اخراج کرتے ہیں جبکہ یہ بھی خیال ہے کہ دنیا کے درجۂ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک سو اکتالیس ملکوں نے اس سمجھوتے پر دستخط کر دیے ہیں لیکن امریکہ اور آسٹریلیا نے اقتصادی وجوہات کی بنیاد پر اس عالمی سمجھوتے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سمجھوتے میں روس کی شمولیت بڑی اہم تھی کیونکہ اس سمجھوتے کو اس وقت تک نافذ نہیں کیا جا سکتا تھا جب تک اس پر وہ ممالک دستخط نہ کر دیں جو خارج ہونے والی گرین ہاوس گیسوں کے پچپن فیصد حصہ کے ذمہ دار ہیں۔ اس سمجھوتے کے تحت جو سولہ فروری سے نافذ ہو رہا ہے سن دو ہزار بارہ تک صنعتی ملکوں کو گرین ہاوس گیسوں کے اخراج کو پانچ عشاریہ دو فیصد کم کرنا ہوگا۔ ہر ملک نے اپنے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے خود اہداف مقرر کئے ہیں۔ چین اور بھارت جیسے ترقی پذیر ملک اس معاہدے میں شامل نہیں ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے سن دو ہزار ایک میں کیٹو پروٹوکول کو رد کرتے ہوئے بھی بھارت اور چین کو اس معاہدے میں شامل نہ کیے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ جاپان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کے جو ملک اس سمجھوتے میں شامل نہیں ہیں وہ کس طرح اس پر عملدرآمد کریں گے۔ انہوں نے کہا وہ ان ملکوں پر زور دتیے رہیں گے کہ وہ اس معاہدے میں شامل ہوں۔ عالمی ماحول کے لیے کام کرنے والے بہت سے سرگرم لوگوں نے اس موقعہ کی مناسبت سے دنیا بھر میں مظاہروں کا اہتمام کرنے کا پروگرام بنایا ہے جس میں اس سلسلے میں سب سے بڑی تقریب جاپان کے تاریخی شہر کیوٹو میں ہو گی جہاں انیس سو ستانوے میں یہ معاہدہ طے پایا تھا۔ اس تقریب سے نوبل انعام یافتہ ونگاری متاھی بھی خطاب کریں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||