انوائرنمنٹل سکیورٹی، مسئلہ کا حل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچ جون کو ہر سال عالمی یومِ ماحول منایا جاتا ہے جس دن عام لوگوں اور صاحب اختیار افراد میں ماحولیاتی مسائل اور ان کے حل کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ ابان کابراجی ماہر ماحولیات ہیں اور جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے لیے بقاءِ ماحول، آئی یو سی این کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے اسی سلسلے میں بات چیت کی۔ س: ایشا کے ماحولیاتی مسائل کیا ہیں؟ لیکن یہ اصل مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ بنیادی مسئلہ ہے گورننس یعنی ان وسائل کے انتظام کا، سرکاری پالیسیوں کا اور منصوبوں کا۔ کیونکہ یہ منصوبے بالعموم مختصر مدت کے لئے ہوتے ہیں جبکہ ماحولیاتی سائیکل یا دور پانچ سے پچاس برس پر پھیلا ہوا ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں منصوبہ بندی میں دور اندیشی سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
س: کیا بقائے ماحول کے لئے بیرونی امداد دستیاب ہے؟ پاکستان چونکہ اسی زمرے میں آتا ہے اس لئے یہاں بڑی مقدار میں بیرونی امداد آ رہی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا وغیرہ میں چونکہ بیرونی ملکوں کے لیے حالات خراب نہیں اس لئے وہاں سے امداد دینے والے ملکوں کی دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔ س: لیکن ماحولیاتی مسائل تو سیاسی اور جغرافیائی حدود کی پرواہ نہیں کرتے؟ ج: یہ بات درست ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اب ایک نئے شعبہ نے جنم لیا ہے اور وہ ہے ’انوائرنمنٹل سکیورٹی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قدرتی ماحول خراب ہوگا تو معیشت خراب ہوگی اور اگر معیشت خراب ہوگی تو غربت بڑھے گی جس کی وجہ سے امن عامہ اور علاقائی مسائل جنم لیں گے۔ مثلاً پانی کا جھگڑا پرانا ہے۔ اور اس کا سبب ماحولیاتی بدانتظامی ہے۔ اگر پانی کے وسائل کا انتظام درست کر لیا جائے تو بہت سے اندرونی اور بیرونی تنازعات ختم ہو سکتے ہیں۔ س: پاکستان کا سب سے بڑا ماحولیاتی مسئلہ کونسا ہے؟ ج: پانی کی کمی۔ اور یہ مسئلہ اور شدید ہوتا چلا جائے گا اگر مناسب حل تلاش نہ کیا گیا۔ سرکاری سطح پر اس کا حل ڈیم بنانے میں تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن ہم لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ دیرپا حل نہیں۔ بلکہ دیرپا حل پانی کے قدرتی وسائل کی بقا میں ہے، ان وسائل کے درست انتظام میں ہے۔ ایک اہم مسئلہ جو جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان کی ماحولیاتی مشکلات میں اضافہ کرے گا وہ کلائمیٹ چینج یا آب و ہوا میں تبدیلی کا ہے۔ اس سے ایک طرف تو شمالی علاقوں میں موجود گلیشیئر پگھلنے لگیں گے اور دوسری جانب سندھ اور بلوچستان میں سمندری پانی ساحلوں کو ڈبو دے گا۔ س: مگر اس کی ذمہ داری تو صنعتی ملکوں پر عائد ہوتی ہے پاکستان کیا کر سکتا ہے؟ س: بے شک امریکہ، جاپان اور دوسرے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کی وجہ سے کلائمیٹ چینج میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس میں چین کا حصہ بھی کم نہیں ہے۔ پاکستان سمیت خطہ کے دوسرے ملکوں کو چاہئے کہ وہ بین الاقوامی اجلاسوں میں بھرپور شرکت کریں اور ان ملکوں کو قائل کرنے کی کوشش کریں کہ وہ آب ہوا میں تبدیلی کے اسباب کو دور کریں۔ امریکہ میں موجودہ حکومت تو شاید اس سلسلے میں کچھ نہ کرے تاہم اگر حکومت بدل جاتی ہے تو شائد کچھ ہو۔ تاہم جاپان، چین اور بھارت سمیت کئی ملکوں نے اس جانب کام شروع کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||