عالمی ادارہ برائے تجارت کا معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جینیوا میں عالمی ادارہ برائے تجارت کے مذاکرات کے بعد آخر کار ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت گلوبل ٹریڈ یا بین الاقوامی تجارت مزید آسان ہوجائے گی۔ ادارے کے اہم ارکان نے ایک طویل اجلاس کے بعد معاہدے کی تجاویز پر اتفاق کیا۔ یہ مذاکرات اپنے مقررہ وقت سے مزید چوبیس گھنٹے بعد تک جاری رہے۔ معاہدے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے کسانوں کو دیا جانے والا تین سو ارب ڈالر کا زرتلافی کم کردیا جائے گا۔ امریکہ نے اس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ کئی فصلوں پر جن میں مکئی، چاول اور کپاس شامل ہیں، زرتلافی کم کردیا جائے گا۔ اس سے پہلے یورپی یونین نے زراعت کے شعبے میں زرتلافی کم کرنے کا کہا تھا۔ اس کے بدلے میں ترقی پذیر ممالک کو تیار شدہ مصنوعات پر محصولات کم کرنا ہوں گے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بعد عالمی معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوگا اور نصف ارب افراد غربت کے شکنجے سے چھٹکارہ پاسکیں گے۔ یورپی یونین کے ٹریڈ کمشنر نے حتمی اتفاق رائے سے قبل کہا تھا کہ یہ معاہدہ عالمی معیشت، ترقی پذیر ممالک اور خاص کر یورپ کے لیے نہایت خوش آئند ہے۔ برازیل کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ آزاد تجارت کو فروغ دے گا اور معاشی انصاف کے لیے اچھا ہے۔ یہ اجلاس جمعہ کوختم ہونا تھا تاہم مندوبین کے درمیان اختلاف رائے کے باعث اسے مزید بڑھانا پڑا۔ جینیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کو مفصل شکل دینا ابھی باقی ہے جس میں دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ بھارتی وزیر تجارت نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ بھاری زرتلافی کے ساتھ زرعی تجارت آزاد تجارت نہیں ہے۔ گھنٹوں جاری رہنے والے مذاکرات میں امریکہ، یورپی یونین، برازیل اور جاپان نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ برآمدات پر زرتلافی ختم کردیں گے تاہم ابھی اس کے لیے تاریخ کا تعین ہونا باقی ہے۔ اس کے بدلے میں ان ممالک کا اصرار ہے کہ ترقی پدیر ممالک کی مارکیٹ میں انہیں بہتر رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||