جنگلی حیات کا بچاؤ اور مالی مفادات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تھائی لینڈ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں نایاب حیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے دنیا کے مختلف ممالک سے جانوروں اور پودوں کی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ خاتمے کے خطرے سے دو چار جانوروں اور پودوںکے تحفظ کے لیے بین الاقوامی کنونشن کا شش ماہی اجلاس پہلی بار ایشیا میں منعقد ہوا ہے۔ کنونشن کے اس مطالبے میں مندوبین کے علاوہ جانوروں اور پودوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ ساتھ ہزاروں مبصرین بھی شریک ہیں۔ بنکاک میں ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا پچاسواں اجلاس ہے جس میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے پچاس تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران ایک سو چھیاسٹھ رکن ممالک فیصلہ کریں گے کہ سفید شارک اور افریقی ہاتھی کو کتنی تعداد میں تجارتی مقاصد کے لیے مارا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مِنک وہیل کے بارے میں بھی اسی طرح کے فیصلہ متوقع ہیں۔ جاپان کا موقف ہے کہ منک وہیل کی اتنی تعداد موجود ہے کہ اب اس کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان جانوروں کے تحفظ کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کی تجارت پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ جنگلی حیات میں سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور ان کے تحفظ کے لیے ہونے والی کانفرنس میں مختلف نظریات، ثقافتوں اور مفادات کا زبردست ٹکراؤ ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||