فلپائن میں پرندوں کی ایک نئی قسم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی فلپائن کے ایک دور دراز جزیرے پر بین الاقوامی تحقیق کاروں نے پرندوں کی ایک نئی قسم کا پتا لگایا ہے۔ فلپینو اور برطانوی تفتیش کاروں نے ’کالیان ریل‘ نامی اس پرندے کو کالیان کے جنگلات میں ایک ندی کے قریب پایا۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا میں اس قسم کے زیادہ سے زیادہ دو سو جوڑے ہی ہیں اور یہ صرف اسی جزیرے پر پائے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی نسل ختم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق ’کالیان ریل‘ ایسا پرندہ ہے جو اڑ نہیں سکتا۔ اس تحقیق کے لیے مالی امداد برطانیہ میں مقیم ’اورینٹل برڈ کلب‘ اور ’رفرڈ سمال گرانٹ کمیٹی‘ نے فراہم کی تھی۔ ’رفرڈ سمال گرانٹس‘ ایک برطانوی ادارہ ہے جوماحولیات کی بحالی کے منصوبوں کے لیے پانچ ہزار پاؤنڈ تک کی مالی امداد فراہم کرتا ہے۔
’کالیان ریل‘ کے بارے میں خبر ایشیائی پرندوں کے جرنل ’فورک ٹیل‘ میں شائع ہوئی تھی۔ تحقیق کار فلپائن کے بابویاں جزیروں کے پرندوں اور جانوروں کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے۔ گیارہ مئی کو کارمیلا ایسپانولا نامی ایک تحقیق کار جب جنگل سے گزر رہی تھیں تو کالیان کے قریب انہوں نے کچھ چھوٹے سے پرندے دیکھے جنہیں وہ پہچان نہیں سکیں۔ ان کے نوٹز اور تصاویر سے انکشاف ہوا کہ یہ پرندوں کی ایک نئی قسم ہے جس کے بارے میں سائنس کو اب تک کوئی علم نہیں ہے۔ جزیرے کے لوگ اس پرندے سے واقف ہیں اور اسے ’پپڈنگ‘ کہہ کر بلاتے ہیں۔ تحقیق کاروں کا اندازہ ہے کہ اس علاقے میں اس پرندے کے تقریباً دو سو جوڑے موجود ہیں۔ اس پرندے کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنے کے لیے تحقیق کاروں کو ایک پرندے کو مارنا پڑا اور اس کا معائنہ کرنے کے بعد انہیں یہ پتا چلا کہ اس میں پرواز کی طاقت نہیں ہے۔
تحقیق کی اس مہم کی سربراہ ژنویو برارڈ کا کہنا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ اس جزیرے پر ان کا سامنا کئی نایاب اور دلچسپ چیزوں سے ہوگا مگر انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ پرندوں کی ایک نئی قسم کا سراغ حاصل کریں گے۔ اس جزیرے کی آبادی تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ فی الحال ’کالیان ریل‘ کی نسل کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مگر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ علاقے میں نئی سڑکوں اور گھرووں کی تعمیر سے ان پرندوں کے لیے ماحول پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||