سزائے موت کا ’ریکارڈ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2004 میں دنیا بھر میں تقریباً 4000 لوگوں کو سزائے موت دی گئی ہے جن میں سب سے زیادہ تر سزائے موت چین میں دی گئی ہے۔ صرف چین میں ہی 3400 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔ برطانیہ میں ایمنیسٹی کی ڈائریکٹر کیٹ ایلن نے دنیا بھر میں سزائے موت دینے کے واقعات میں اضافے کو خطرناک رجحان قرار دیتے ہوئے چین پرخاص طور سے تنقید کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ ان قوانین کو بہتر بنائے گا جن کے تحت سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔ سزائے موت دینے والے ملکوں میں امریکہ چوتھے نمبر پر ہے جہاں 2004 میں سزائے موت کے 59 واقعات ہوئے۔ ایران 159 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ویتنام تیسرے نمبر پر ہے جہاں 64 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ تنظیم کے مطابق سزائے موت دینے کے گزشتہ برس کے اعدادو شمار 25 سالوں میں دوسری سب سے بڑی سالانہ تعداد ہے۔
محترمہ ایلن نے کہا یہ تعداد تصدیق شدہ ہے لیکن کئی ملک خاموشی کے ساتھ یا خفیہ طور پر بھی سزائے موت دیتے ہیں ۔ چینی سرکاری خبر ساں ایجنسی نے چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ کے حوالے سے کہا تھا کہ بیجنگ اپنے عدالتی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا تاکہ سزائے موت دینے کے نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جا سکے۔ برطانیہ میں ایمنیسٹی کی ترجمان سارہ گرین نے ان کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیان کے ساتھ ساتھ عملاً بھی کچھ کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کو اس سلسلے میں دو اعتراضات ہیں ایک تو اس سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور دوسرے اس کا نفاذ بہت غیر منصفانہ طریقے سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بہت سے شواہد ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صحیح سزا نہیں ہے۔ امریکہ نے گزشتہ ماہ نا بالغوں کے ہاتھوں ہونے والے جرائم کے لئے سزائے موت پر پابندی لگا دی۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکہ میں سزائے موت دینے کے واقعات میں کمی آرہی ہے۔ امریکہ میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی جاتی ہے۔ اخبار کے مطابق 2003 میں مجموعی طور پر 144 افراد کو سزائے موت دی گئی جو 1977 کے بعد سب سے کم تعداد تھی۔
محترمہ گرین نے امریکہ میں سزائے موت دینے کے واقعات میں کمی کا خیر مقدم کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس سزا پر پابندی لگانی چاہئے۔ انہوں نے ان تمام سروے رپورٹوں کو ماننے سے انکار کر دیا جن دکھایا گیا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت سزائے موت کے حق میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||