BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 March, 2005, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا پھانسی کی سزا صحیح ہے؟
سزائے موت کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے جرائم میں کمی نہیں آتی ہے۔
سزائے موت کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے جرائم میں کمی نہیں آتی ہے۔
مختاراں بی بی کیس میں ملزمان کی رہائی پر ہمارے بیشتر قارئین نے لکھا ہے کہ ملزمان کو پھانسی دینے کا فیصلہ صحیح تھا اور لاہور ہائی کورٹ کو اس فیصلے کو برقرار رکھنا چاہئے تھا۔ لیکن آج یورپ کے تقریبا تمام ممالک میں موت کی سزا ختم کردی گئی ہے۔ موت کی سزا ختم کرنے کی مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ انسان اکثر کسی سماجی یا سیاسی یا دیگر وجوہات کے سبب غلطیاں کر بیٹھتا ہے جس کے لئے وہ سماج زیادہ ذمہ دار ہے جس میں وہ بستا ہے۔ سزائے موت کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے جرائم میں کمی نہیں آتی ہے۔

لہذا انسان کو سزائے موت نہ دےکر اسے پوری زندگی کی قید یا کوئی دوسری سزا ملنی چاہئے تاکہ اسے سدھرنے کا موقع ملے اور اسی طرح اس سماج میں بھی اصلاحات کے لئے حالات پیدا ہوں جہاں کا وہ باشندہ ہے۔

آپ کی رائے میں کیا موت کی سزا صحیح ہے؟ کن حالات میں موت کی سزا ہونی چاہئے؟ اگر آپ سزائے موت کی مخالفت کرتے ہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


نوید نقوی، کراچی:
کم سے کم پاکستان کے اندر ایسا ہونا ناممکن ہے کیوں کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ملک ہے۔ موت کی سزا اسلام میں ہے۔

کامران خان، لاہور کینٹ:
زنا کے بارے میں ہمارے دین اسلام کا یہ حکم ہے کہ وہ شخص یا عورت کو سب کے سامنے تب تک سنگسار کیا جائے جب تک اس کی موت واقع نہیں ہوجائے۔ میرے خیال میں یہ بالکل صحیح سزا ہے۔ کسی کی ماں یا بیٹی کی عزت تر تر کرنا دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جو کہتے ہیں کہ پھانسی کی سزا نہیں ہونی چاہئے ان سے میرا یہ سوال ہے کہ اللہ نہ کرے کل ککو ان کی ماں، بہن، بیٹی کی عزت۔۔۔۔

آصف رفیق، لائبیریا:
سزائے موت کبھی ختم نہیں ہونی چاہئے۔ اگر کوئی شخص دوسرے شخص کو جینے نہیں دیتا ہے تو اسے بھی اپنی زندگی جینے کا حق نہیں ملنا چاہئے۔۔۔

جرم کی نوعیت کے اعتبار سے
 صدیوں سے معاشرتی و سماجی بقا کے لئے ناپسندیدہ افراد کو سزا دینے کا رواج ہے۔ اگر کوئی شخص کوئی ایسا کام کرتا ہے جو معاشرے کے لئے نقصان دہ ہے تو اسے جرم کہا جاتا ہے۔ جرم کی نوعیت کے اعتبار سے سزا تجویز کی جاتی ہے۔
احتشام فیصل

احتشام فیصل:
صدیوں سے معاشرتی و سماجی بقا کے لئے ناپسندیدہ افراد کو سزا دینے کا رواج ہے۔ اگر کوئی شخص کوئی ایسا کام کرتا ہے جو معاشرے کے لئے نقصان دہ ہے تو اسے جرم کہا جاتا ہے۔ جرم کی نوعیت کے اعتبار سے سزا تجویز کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی شخص نے کوئی جرم کیا تو اس شخص کو معاشرے سے نکال کر قید کردیا جاتا تاکہ سوسائیٹی کو نقصان نہ پہنچاسکے۔ اسی طرح عمر کی قید اور سزائے موت بھی ہے۔۔۔۔

نعیم شیراز، ناروے:
پھانسی کی سزا کو ختم کر دینا چاہیے۔

علی عمران شاہین، لاہور:
جو کسی کی جان لے تو کیا اسے سزا نہیں ملنی چاہئے؟ کیا مرجانے والے کی جان کی قیمت کم تھی یا وہ انسان نہیں تھا۔ ہر کوئی اپنے آپ کو سامنے رکھ کر سوچے تو بات آسانی سے سمجھ میں آجائے۔۔۔

صالح محمد، راولپنڈی:
میرا خیال ہے کہ موت کی سزا صرف ایسے کیس میں ہونی چاہئے جس میں جرم کرنے والی کی پوری پوری مرضی شامل ہو اور جرم کرنے والا قتل کو اوائڈ کرسکتا ہو لیکن پھر بھی قتل کردے، ایسے لوگوں کو تو موت کی سزا ہونی ضروری ہے۔ لیکن اس کے لئے آپ اتنی قابل اور عاقل عدلیہ کہاں سے لائیں گے؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ موت کی سزا نہیں ہونی چاہئے، بلکہ۔۔۔۔

مبین، ایم اے جوہر ٹاؤن:
سزائے موت ٹھیک ہے۔ اس سے مجرموں کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ سعودی عرب کے قوانین بہتر ہیں۔۔۔۔

نوید جمانی، گھوٹکی:
میری نظر میں موت کی سزا ایک اسلامی قانون ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ مجرم کو موت کی سزا ملنی چاہئے اگر موت کی سزا صحیح نہیں ہوتی تو یہ اسلام میں بھی نہ ہوتی۔

زین ملک، اسپین:
سزائے موت ابھی بہت چھوٹی سزا ہے جس کی تکلیف صرف ایک بار ہوتی ہے جبکہ ایک شخص بیس یا پچیس سال جیل میں گزار کے باہر آتا ہے تو وہ ٹوٹ چکا ہوتا کیوں کہ اس نے اپنی پوری زندگی خود ضائع ہوتے ہوئے دیکھی ہے۔ میرے خیال میں سزائے موت کو کم تکلیف کے بنا پر ختم کردینا چاہئے۔

عابد عزیز، ملتان:
میں مسلمان ہوں اور اسلام کسی کے قتل کی بات نہیں کرتا ہے۔ لیکن اگر ایسا کوئی کرتا ہے تو اسے سزائے موت ملنی چاہئے۔

محبوب احمد، کمالیہ:
جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ جو کسی گھر کو برباد کرے اسے بھی ایسی ہی سزا ملنی چاہئے۔۔۔۔

سماج ذمہ دار ہے
 یہ مجرم نہیں بلکہ سماج ذمہ دار ہے جہاں اس طرح کے جرائم ہوتے ہیں اور ان کی تبلیغ دی جاتی ہے۔ ایک بار جب مجرم پکڑا جاتا ہے تو ضروری ہے کہ تحقیقات کی جائیں اور وجہ معلوم کی جائے۔
بلبل خان، کراچی

بلبل خان، کراچی:
ویل، یہ مجرم نہیں بلکہ سماج ذمہ دار ہے جہاں اس طرح کے جرائم ہوتے ہیں اور ان کی تبلیغ دی جاتی ہے۔ ایک بار جب مجرم پکڑا جاتا ہے تو ضروری ہے کہ تحقیقات کی جائیں اور وجہ معلوم کی جائے۔ اگر وجوہات سے مجرم کے جرم کا جواز ملتا ہے تو اسے اس کے مطابق ہی سزا ملنی چاہئے۔ مجھے نہیں لگتا کہ سزائے موت سے جرائم میں کمی آرہی ہے۔۔۔۔

سعید احمد، گجرانوالہ:
یہ اسلام کے مطابق ہے۔ اگر یورپ کرنا چاہتا ہے تو کرے، لیکن مسلم دنیا کو اس بارے میں صلاح نہ دے۔

انور گنڈاپور، فرانس:
میرے خیال میں موت کی سزا ختم کردینی چاہئے اور مجرم کو قیدِسخت میں رکھتے ہوئے اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔

امین اللہ شاہ، میانوالی:
فطرت نہیں بدلتی ہے، سائنس کی رو سے یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس لئے میری ذاتی رائے۔

کلیم، ٹورانٹو:
آپ ہمیں یہ بتارہے ہیں کہ ہلاکت یا قتل صحیح ہے؟

نغمانہ نیازی، اسلام آباد:
میں سمجھتا ہوں کہ حالات کے بنا پر، اگر کوئی شخص شیطانی کام کرتا ہے تو اس کو ایک بار نہیں، تین بار پھانسی دینی چاہئے۔ تاکہ دوسرے لوگوں کے لئے یہ ایک مثال بن جائے اور وہ قانون نہ توڑیں۔

عطاء الرحمان، ٹورانٹو:
اگر سزا قرآن کے مطابق ہے تو بالکل ٹھیک ہے۔ کیوں کہ قرآن تو قیامت تک ہے۔

ظفر، کینیڈا:
بالکل، سزائے موت صحیح ہے، خصوصی طور پر ہمارے معاشرے میں۔

سجن بودلئی سندھی، سکر:
افراد کو سماج تحفظ فراہم کرے، چاہے اس کے لئے کسی کو مرنا پڑے۔ سماج کو حق ہے ہلاک کرنے کا، جیسے کہ اسے جنگ لڑنے کا حق بھی ہے۔ ۔۔۔

اقبال پتنی، آنند، انڈیا:
سزائے موت ایک شرط پر معاف ہوسکتی ہے جب مقتول کے وارث خود کی قاتل کو روپیہ لے کر یا ایسے ہی معاف کردیں۔

کافی سنگین کیس ہے
 یہ کافی سنگین کیس ہے۔ جو لوگ سزائے موت کی مخالفت کرتے ہیں کیا وہ بتاسکتے ہیں کہ اگر ان کے ساتھ ایسا ہو تو وہ کیا کریں گے؟
رخسار حسین، جہلم

رخسار حسین، جہلم:
یہ کافی سنگین کیس ہے۔ جو لوگ سزائے موت کی مخالفت کرتے ہیں کیا وہ بتاسکتے ہیں کہ اگر ان کے ساتھ ایسا ہو تو وہ کیا کریں گے؟ آپ اس بات کی مخالفت کیوں نہیں کرتے کہ ملزمان کو کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟ یہ خواتین کی عزت کا مسئلہ ہے لہذا سزائے موت ہونی چاہئے۔ اور وہ بری ہوجائیں گے تو پھر یہی کریں گے۔

یار محمد کبار، لاڑکانہ:
سزائے موت ختم ہونی چاہئے۔ سزائے موت ظالمانہ اور غیرمؤثر طریقہ ہے اور سنگین اور کمپلیکس جرائم کا سِمپلِسٹِک جواب ہے۔ پانچ سو نوے ایسے کیس میں سے چار سو کیس میں غلط لوگوں پر الزام لگایا گیا ہے۔۔۔۔۔

فضل سبحان جان، ابوظہبی:
اگر معاشرے میں امن قائم رکھنا ہے تو پھانسی کی سزا ہونی چاہئے۔ ورنہ مجرموں کو کھلی چھٹی مل جائے گی، چاہے کتنے گھر برباد کریں۔

ہارون نواز، خان پور:
قرآن میں اللہ نے سب کچھ واضح بتا دیا ہے لہٰذا جو اس بارے میں اسلامی احکامات ہیں ان پر عمل کیا جائے۔

سید گیلانی، کینیڈا:
جس نے بھی قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ موت کی سزا جائز ہے لیکن اسے سماجی انصاف کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔

عبدالحمید، بھارت:
سزائے موت صحیح ہے۔ اس کی وجہ سے جرم کم ہوتے ہیں اور مجرم کو ڈر بھی رہتا ہے۔

سید جاوید، امریکہ:
اگر آپ کسی کو قتل کریں تو آپ کو وہی سزا ملنی چاہیے۔ اگر معاشرہ قاتل کی پشت پناہی کرے گا تو ہر کسی کے پاس اپنے جرم کا جواز ہو گا۔

کرن مرزا، کینیڈا:
سزائےموت کی شرط ہونی چاہیے۔ محتاراں بی بی کے کیس میں تو مجرمان کو سنگسار کر دینا چاہیے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو۔

طیّبہ، کینیڈا:
یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن اگر ہمارا معاشرہ اس قسم کی سزاؤں کو ختم کر دے گا تو مجرم مزید جرم کرنے لگیں گے۔

محمد احمد، امریکہ:
قاتل کے مستقبل کا فیصلہ صرف مقتول کے ورثاء کے پاس ہونا چاہیے اور ورثاء کا فیصلہ حرفِ آخر ہونا چاہیے۔

وسیم غوری،کراچی:
پھانسی کی سزا ٹھیک ہے۔

ذیشان عامر، فرانس:
جہاں تک سزا کا تعلق ہے تو مذہبی نقطۂ نظر سے یہ با لاک صحیح ہے اور اگر کھلے ذہن سے سوچا جائے تو کچھ جرائم ایسے ہیں جن کے لیےموت کی سزا بھی کم ہے۔

نقصان فیملی کو ہوتا ہے
 کسی بھی سماج کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کی زندگی لے۔ سزائے موت سے زیادہ نقصان اس شخص کی فیملی کو ہوتا ہے، خود اسے نہیں۔
گل انقلابی سندھی، دادو

گل انقلابی سندھی، دادو:
کسی بھی سماج کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کی زندگی لے۔ سزائے موت سے زیادہ نقصان اس شخص کی فیملی کو ہوتا ہے، خود اسے نہیں۔ جن ممالک میں سزائے موت ہے وہاں عام طور پر غریب لوگ، غیرتعلیم یافتہ لوگ اور اقلیت کے افراد ہلاک ہوتے ہیں۔۔۔۔سزائے موت سے جرائم کم نہیں ہوتے، اس کا ثبوت نہیں۔۔۔۔

شاہد محمد، کراچی:
جان کا بدلہ جان، یہی اسلام کہتا ہے۔

محمد ساجد، سیالکوٹ:
میں یہ نہیں جانتا کہ سزائے موت صحیح ہے یا نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ سزا جرم کے حساب سے ہونی چاہیے۔ گینگ ریپ کے مجرمان کو تو سرِ عام پھانسی دینی چاہیے۔

جمیل اختر، برطانیہ:
اگر ملک میں انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں تو سزائے موت ضروری ہے لیکن اگر کسی ملک میں انصاف کا عمل مشکوک ہے تو وہاں یہ سزا نہیں ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد