 |  مختاراں کیس: روایت کا جبر؟ |
لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے مظفر گڑھ کی مختاراں مائی گینگ ریپ کیس کے ایک ملزم کو قید کی سزا سناتے ہو ئے باقی ملزموں کو بری کر دیا ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی خصوصی عدالت برائے انسدادِ دہشت گردی نے اکتیس اگست سن دو ہزار دو کو پنچایت کے اراکین سمیت ان چھ ملزمان کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ مختاراں مائی کو پنچایت کے حکم پر مخالف قبیلے کے لوگوں نے اجتماعی زیادتی کا شکار بنایا تھا۔ ملتان بنچ کے جسٹس اعجاز چودھری اور جسٹس ایم اے شاہد صدیقی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ملزمان فیض مستوئی، رمضان پچار، اللہ دتہ، فیاض اور غلام فرید کو بری کر دیا جب کہ ملزم عبدالخالق کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ ججوں نے کہا کہ پیش کردہ ثبوت ناکافی ہیں۔ انہوں نے پولیس کی تفتیش کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وکیلِ صفائی محمد سلیم نے اس موقع پر کہا کہ ’ انصاف کا بول بالا ہوا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ میڈیا اور حکومتی دباؤ کے نتیجے میں دیا گیا تھا۔‘ مختاراں مائی نے اس حالیہ فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ میں اپیل کروں گی اور اپنا حق حاصل کرنے کے لئے ہر جگہ جاؤں گی۔‘ انسانی حقوق کی وکیل حنا جیلانی نے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت پر زور دیا ہے۔ آپ کی رائے کیا ہے ہمیں لکھئے۔ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
غلام فاروق زردان، یواے ای: جب کل میں نے یہ خبر آپ کی سائٹ پر پڑھی تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔۔ مسلم پاکستانی، پاکستان: اس نوعیت کے کئی کیس برطانیہ میں ہیں تو ان کے بارے میں کیوں نہیں بات کرتے؟ یہی کیوں اہم ہے؟ ڈاکٹر محمد انور، جاپان: شرم سے سر جھک گیا ہے کیوں کہ میں بھی اسی مٹی کی پیداوار ہوں جہاں یہ ظلم ہوا ہے۔۔۔۔ راشد لون، راولپنڈی: ایسا فیصلہ دینے میں ججوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ پوری دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں، کیوں کہ یہ کیس ساری دنیا کو معلوم ہے۔ در حقیقت دنیا میں اس کیس کی شہرت کی وجہ سے ہی ہماری عدالتیں پھر سے زندہ ہوگئیں اور سخت سزا دیا۔ وہ عدالتیں پنچایت کا ساتھ دے رہی ہیں۔ پاکستان میں ہم اس کے بارے میں کھل کر بات بھی نہیں کرسکتے کیوں کہ ہم عدالت کی توہین کا مرتکب ہوسکتے ہیں لیکن میڈیا اور ویب سائٹیں ہمارے عدالتی نظام کے بارے میں بات کررہی ہیں۔ عبدالجبار پیرزادہ، لاڑکانہ: یہ نامکن ہے کہ مختاراوں بی بی کو اس ملک میں انصاف ملے گا، جہاں عدالتیں فوج، حکمرانوں اور دوسرے بااثر لوگوں کے اثر میں کام کررہی ہیں۔۔۔۔ غلام نبی چاچر، شکارپور سندھ: ایسا لگتا ہے کہ جو بھی بااثر شخص ہے وہ بچ جاتا ہے اور پیسے سے اپنی جان بچالیتا ہے۔۔۔۔ سید رضوی، امریکہ: صدمہ پہنچانے والی یہ خبر ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب نچلی عدالت نے چھ لوگوں کو پھانسی کی سزا دی تھی تو میں بہت خوش تھا۔ میں اپنی اہلیہ سے اس بارے میں بات کررہا تھا، کہ میں نے جب یہ خبر پڑھی نئے فیصلے کے بارے میں، تو میرے پاس اپنی اہلیہ سے بات چیت کرنے کو کچھ نہ تھا۔ میری بیوی امریکن ہے، پاکستان میں جاکر رہنا چاہتی ہے اور کسی یونیورسٹی میں کام کرنا چاہتی ہے اور اب میں اسے منع کررہا ہوں۔۔۔۔ ہمایوں طارق، یو اے ای: مشرف صاحب مبارک ہو آپ کی حکومت میں انصاف کا بول بالا ہوگیا ہے۔۔۔۔ سید مظفر قریشی، امریکہ: پاکستان میں بلیک عدالتی نظام ہے اور اس میں عورت کو انصاف ملنا ویسے ہی ہے جیسے سورج کے آگے چراغ جلانا۔۔۔ وسیم انصاری، ٹورانٹو: مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ انہیں کس طرح کا ثبوت چاہئے؟ کیا ججوں کو بھی پھانسی دیدی جائے؟ ایک غریب عورت کا گینگ ریپ ہوجاتا ہے، تمام پاکستان کو معلوم ہے کہ کیا ہوا اور عدلیہ کو سوچنا چاہئے۔۔۔۔ جان، پاکستان: یہ جو کچھ ہوا ہے غلط ہے۔ ان سب کو سزائے موت ہی ٹھیک تھی، اس طرح ایسا کرنے والوں کو کچھ تو خوف ہوتا۔ ایسا کرنے سے یہ کام بڑھے گا، کم نہیں ہوگا۔ جب سب کو پتہ ہے کہ کچھ نہیں ہوتا کوئی قانون نہیں ہے۔ یہ سب کے لئے برا ہے۔ مرزا یاسر، یو اے ای: مجھے یہ خبر پڑھ کر کافی صدمہ پہنچا ہے اور میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر یہ صحیح ہے کہ مختاراں بی بی کے ساتھ ایسا ہوا تو ان مجرموں کو سزا ضرور ملے گی۔۔۔ عبدالصمد، اوسلو: صرف ایک کو سزا، باقی کو رہائی، یہ کیسا انصاف ہے؟۔۔۔۔ نعیم اکرم، کراچی: آج اب بھی اخبار اٹھائیں تو کسی دن کسی تین سالہ بچی کے ریپ کی خبر ہوتی ہے اور کبھی بےغیرت پنچایت کے فیصلے کی خبر ہوتی ہے۔ میں ان حکمرانوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا یہ جتنے بغیرت ہوگئے ہیں، کہ کیا ان کی اپنی ماں بہن بیوی یا بیٹیاں نہیں ہیں جو کبھی کسی پنچایت کے بےغیرت افراد کو بچانے کے لئے یا کبھی وردی کی عصمت کو تار تار کر نے والے کی پشت پناہی کے لئے آگے آجاتے ہیں۔۔۔۔ نامعلوم: مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر شرم آتی ہے۔ یہ سیسٹم کرپٹ ہے اور میں اس کا عادی ہوں۔۔۔۔ امجد چودھری، ٹوکیو: جس معاشرے میں انصاف دینے والے بکاؤ ہوں وہاں اور کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔ جج صاحبان کو یاد رکھنا چاہئے کہ ایک عدالت اور بھی ہے جہاں ان کو جواب دینا ہوگا اور وہاں نہ کوئ رشوت چلے گی اور نہ کوئی سفارش۔۔۔۔ شمیم ببلی، بالٹی مور: پاکستان میں انصاف بکتا ہے۔ نوے فیصد جج رشوت خور ہیں۔ پنچایت کا انصاف اور جج کے انصاف میں کوئی فرق نہیں۔ ڈاکٹر جلیل احمد، لندن: مختاراں بہن کو سپریم کوٹر میں اپیل کرنی چاہئے۔ اس کے علاوہ صدر مشرف کو کوئی غیرت کی گولی کھاکر مجرموں کو سزا دلوانی چاہئے۔۔۔۔ آدم خان، ٹورانٹو: یہ بالکل ناانصافی ہے اور لوگوں کا غیرانسانی رویہ ہے جو خواتین کی عزت نہیں کرتے۔۔۔ محمد حمید الحق، کراچی: انصاف کے کٹہرے میں کھڑے لوگ بھی اب میڈیا کے دباؤ میں آکر سزا پا سکتے ہیں تو چھٹ بھی سکتے ہیں۔ پر عدلیہ کا فیصلہ جو ہر صورت میں انصاف کے ساتھ ہونا چاہئے اس پر کون بھروس رکھےگا اب؟ اور جہاں تک مختاراں بی بی کا تعلق ہے ان کی تکلیف اور دکھ ان کی اپنی عزت سے زیادہ یا ان کے گھر والوں سے زیادہ کوئی بھی فِیل نہیں کرسکتا۔۔۔۔ معظم مسعود بھٹی، کماٹی: میں نے اس ریپ کیس کے بارے میں کئی بار پڑھا اور پھر یہ سنا کہ ملزمان جیل میں ہیں اور اب مجھے بی بی سی اردو سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ وہ آزاد ہیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو ہم سب جنگل میں رہ رہے ہیں۔۔۔ نجم ولی خان، لاہور: مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نہ تو ہم اپنے سماجی نظام پر اعتماد کرسکتے ہیں اور نہ ہی عدالتی نظام پر۔ ہم شرمندہ ہیں کہ ہم اس قسم کی سوسائٹی میں رہ رہے ہیں اور زیادہ شرمندگی اس بات کی ہے کہ ہم اس نظام کو تبدیل کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتے، کچھ بھی نہیں۔۔ کاش اسلام نافذ ہو اور تمام مسائل کا حل نکل آئے۔ سید شاداب، ٹورانٹو: میرے خیال میں دوچار ججوں کو بھی پھانسی ہونی چاہئے، سب کا سب ٹھیک ہوجائے گا۔ نرگس حسین، ملتان: بالکل غلط فیصلہ ہے اس ملک میں کوئی قانون نام کی چیز ہے ہی نہیں سب لوٹ مچی ہوئی ہے مال کی لوٹ، عزت کی لوٹ، جنگل میں بھی جانور کسی قانون سے رہتے ہوں گے، یہاں وہ بھی نہیں ہے۔ اختر صدیقی، جاپان: اگر ثبوت ناکافی تھے تو کوشش کی جاتی کہ ثبوت حاصل کیے جائیں۔۔۔۔ ملک، یو اے ای: ججوں کو شرم آنی چاہئے۔ آصف شاہ، کراچی: بہت دکھ کی بات ہے کہ پہلے کیس کو لمبا کرتے رہے، پھر صحیح فیصلے کو نظرانداز کرتے ہوئے پانچ کو بری کردیا۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ غلط ہے۔ سب کو ملزمان کو سزا ملنی چاہئے۔ فاروق اقبال: اللہ فیصلہ کرے گا، آج نہیں تو کل۔ میری بہن اللہ میں یقین کر، پریشان نہ ہو، کسی سے کوئی توقع نہ کرو، پاکستان کی اکثریت مادیت پرست ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ حسن علی، اٹلی: یہ فیصلہ غلط ہوا ہے اور اس فیصلے کی وجہ سے جو لوگ یہ کام نہیں کرتے وہ بھی بہادر بن جائیں گے۔ میرے خیال میں اس آدمی کو پھانسی ہونی چاہئے تھی۔ آج ہمارے ججوں کو فیصلہ کرنا نہیں آتا تو لوگ کیا کریں گے؟ آج ہمارے اسلامی معاشرے میں عورت کا کوئی مقام نہیں ہے؟۔۔۔ خالد، پاکستان: تمام ملزمان کو سزا ملنی چاہئے۔ آفتاب پاسوال، مظفرآباد: اللہ زیادتی کرنے والوں کو تباہ کرے۔ ان سب کو پھانسی دینا بہت ضروری تھا، یہ فیصلہ بالکل غلط ہے۔۔۔۔
کریم پناہ شمون، کراچی: میں عدالت کے فیصلے پر کچھ نہیں کہوں گا۔ لیکن میں آپ کی توجہ اس بات کی جانب دلانا چاہتا ہوں کہ اس طرح کے کیس میں میڈیا کی رپورٹنگ کا اخلاق کیا ہے؟ کس حد تک یہ صحیح ہے کہ اس طرح کے کیس میں اس طرح کی خواتین کی تصاویر شائع کی جائیں؟ (نوٹ: بی بی سی کی پالیسی ہے کہ ریپ کی شکار خواتین کی تصاویر ہم شائع نہیں کرتے ہیں۔ لیکن مختاراں کیس میں ہمارے نامہ نگاروں نے ان سے اس موضوع پرگفتگو کی۔ مختاراں کو پنچایت کے حکم پر ڈیڑھ سو افراد کی موجودگی میں اجتماعی عصمت دری کے لئے لےجایا گیا اور کسی نے آواز نہ اٹھائی جس کے خلاف مختاراں خود اپنے مقامی معاشرے میں سامنے آئیں اور خواتین کے ان مسائل کو منظر عام پر لانے کی کوششیں کرتی رہی ہیں۔ ان کی اجازت سے میڈیا میں ان کی تصویریں شائع کی جانے لگیں: ایڈیٹر)
اشعر حسن، ملتان: پہلا فیصلہ میڈیا کے دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔ مغربی ذرائع ابلاغ پاکستانی سوسائٹی پر تنقید کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے ہیں۔ ججوں نے صحیح فیصلہ کیا ہے۔رابعہ ارشد، ناروے: اس کیس کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے میں اشعر صاحب جو کہ ملتان سے ہیں ان سے پوچھنا چاہوں گی کہ آپ کس میڈیا کی بات کرتے ہیں – اس میڈیا ہی کی وجہ سے تو آج آپ یہ جاننے کے قابل ہوئے ہیں کہ کس جگہ کیا ہورہا ہے، کون کس پر ظلم کررہا ہے اور کس پر ظلم ہورہا ہے۔ اور اگر خدا نخواستہ یہ کیس آپ کے ہوم میں کسی کے ساتھ ہوتا تو آپ کی رائے پھر یہی ہوتی یا جب بھی ایسا بولتے؟ ہمارے یا آپ کے پاکستان میں تو آئے دن ایسا ہی ہورہا ہے اور ہماری گورنمنٹ کچھ نہیں کر سکتی، پیسوں کی وجہ سے، آج کوئی عزت لوٹ کر بری ہوجاتا ہے اور کوئی اٹھائیس لاکھ میں ایشوریہ رائے کے ساتھ ایک چائے پینے کو تیار ہے، میں تو یہ بولوں گی کہ ایسے کیس میں نہ جج، نہ مقدمہ، صرف پھانسی یا سرعام گولی۔۔۔
زبیر بھٹ، لیاقت پور: پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔ عبدالوہاب، پاکستان: بہت بڑی ناانصافی ہوئی ہے۔ لیکن پاکستانیوں کے لئے یہ تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہاں انصاف کا کوئی نظام نہیں ہے۔ آپ ججوں کو خود خرید سکتے ہیں۔ اوپر سے نیچے تک سارا نظام کرپٹ ہے۔۔۔۔ غالب علی، پراگ: فراڈ وطن، فراڈ حکمران۔۔۔۔ منظور احمد بنیان، اسلام آباد: یہ سب کچھ قرآن اور سنت کے خلاف تھا، پنچایت کے سبھی افراد کو پھانسی دیدی جانی چاہئے تاکہ بعد میں کوئی شخص ایسا نہ کرے۔ مجھے لگتا ہے کہ ججوں نے جرائم پیشہ افراد سے رشوت لی ہے۔ اس فیصلے میں کوئی انصاف نہیں ہے۔ نامعلوم: عدلیہ کی حالت پاکستان کی صحیح تصویر پیش کرتی ہے۔ طاقت ہی سب کچھ ہے، اس طرح کے نظام سے کس چیز کی امید رکھیں؟ حسین عارف، لاہور: اس فیصلے میں انصاف نہیں۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: پھر ایک غریب کی عزت لٹی اور ہماری عدالتوں نے طاقتور لوگوں کے حق میں فیصلہ دیا، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس ملک میں غریب اور کمزور کا کوئی ولی وارث نہیں ہے۔ کون ہے جو ان کے دکھوں کا مداوا کرسکے گا؟ اور کون ہے جو ہمیں غریبی کے چنگل سے چھڑا سکے گا؟ یہ استحصال ہوتا رہے گا، ہمیں انقلاب کی ضرورت ہے۔ ذوالفقار احمد، ہانگ کانگ: اگر جج فیصلہ کرتے وقت یہ ذہن میں رکھتے کہ اگر یہی کچھ ان کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ہوا ہوتا تو یہ غلط فیصلہ نہ کرتے۔ افتخار احمد، دوبئی: پیارے پاکستان میں ظلم کی ان گنت داستانوں میں ایک اور داستان کا اضافہ ہوگیا۔ لیڈی ڈاکٹر کا کیس چیف صاحب تک کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور یہ غریب مائی پہلے گنڈوں کے ہاتھوں۔۔۔۔ سرفراز علی، لندن: ہمیں اپنے ججوں سے انصاف کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔ ان ججوں نے آئین کی خلاف ورزی کو کئی بار صحیح قرار دیا ہے۔ ججوں کی بات کیا کریں جب سماج میں اخلاقی اقدار نہیں ؟ اویس ملک، چین: ایک ایسے ملک میں جہاں صدر پاکستان ملک کے قانون کی عزت نہیں کرتا، ملٹری یونیفارم پہن کر خود کو ڈیموکریٹ ثابت کرنے کی کوشش کریں، تمام گورنمنٹ ایجنسیوں کو کرپٹ بنادے، جج بھی اسی ٹیم کے ارکان ہیں۔ پنچایت سیسٹم نے سینکڑوں افراد کو ذہنی طور پر ہلاک کردیا ہے۔۔۔۔ حسن، لاہور: جناب انصاف تو وہاں ہو نہ جہاں پر قانون ہو۔ یہاں قانون ہی نہیں تو انصاف؟؟ محمد علی عبدالعلی، سوئٹزرلینڈ: غلط فیصلہ۔ پاکستان میں صرف مختاراں بی بی نہیں ہے، بلکہ زیادہ خواتین کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ مگر صرف مختاراں بی بی کی خبر شائع ہورہی ہے۔۔۔ رفیق، فیصل آباد: سراسر ناانصافی ہے۔ احسن خان، چین: میں عدالت کے فیصلے سے ناخوش ہوں۔ میں ان سیاست دانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہوں گا جو پارلیمان میں ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ نہیں کررہے ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیکر وہاں بھیجا ہے۔۔۔۔ جب بھی میں پاکستان جاتا ہوں یہ دیکھتا ہوں کہ قانون کی حکمرانی نہیں، انصاف نہیں،۔۔۔۔ |