زیادتی کا بدلہ سکول بنا کر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تقریباً تین سال قبل صوبہ پنجاب کے جنوبی قصبے میراوالا میں خود ساختہ پنچایت کے حکم پر زنا کا شکار ہونے والی مختاراں مائی نے امدادی رقم سے بستی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے پرائمری سکول کھول دیئے ہیں۔ مختاراں مائی نے جو خود تعلیم یافتہ نہیں ہیں کہا کہ تعلیم لوگوں کی سوچ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مقامی صحافی ندیم سعید نے بتایا کہ مختاراں مائی کو حکومت کی طرف سے پانچ لاکھ روپیہ امداد میں ملا تھا جس سے انہوں نے زمین خرید کر سکول بنا دیئے۔ لڑکیوں کے سکول کا نام مختاراں مائی گرلز سکول اور لڑکوں کے سکول کا نام انہوں نے اپنے والد کے نام پر فرید گجر بوائز سکول رکھا ہے۔ ان سکولوں میں بھی ملک کے بہت سے سکولوں کی طرح بجلی اور فرنیچر نہیں ہے۔ اس لیے گرمیوں میں کمروں میں اور سردیوں میں صحن میں دھوپ میں پڑھائی ہوتی ہے۔ فروری دو ہزار دو میں ایک ’پنچایت‘ نے مختاراں مائی کے بھائی پر ایک لڑکی کے ساتھ زنا بالجبر کرنے کا الزام لگا کر اس لڑکی کے قبیلے والوں کو مختاراں کے ساتھ زنا کی اجازت دی تھی۔ مختاراں مائی کا کہنا ہے کہ زنا کے بعد ان کا خود کشی کرنے کو دل کرتا تھا لیکن انہوں نے بہت سے لوگوں کی طرف سے اظہار ہمدردی کے بعد زیادتی کرنے والوں کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلے کیا۔ ماتحت عدالت نے اس مقدمے میں زیادتی کرنے والے چار ملزمان اور ’پنچایت‘ کے دو ارکان کو سزائے موت سنائی تھی۔ ان کی اپیلیں زیر سماعت ہیں۔ مختاراں مائی چوبیس گھنٹے پولیس کی حفاظت میں رہتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||