BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 May, 2004, 23:54 GMT 04:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انصاف نہیں ملا تو جان دے دیں گے
-
زنا سے متعلق حدود قانون کے خلاف احتجاج
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے آبرو ریزی کے خلاف احتجاج کرنے والے تین پادریوں سمیت سات افراد کو گرفتار کرلیا ۔ جنہیں سات گھنٹے کے بعد اس شرط پر رہا کردیا گیا کہ وہ بدھ کی صبح عدالت میں پیش ہوں گے۔

گرفتار ہونے والوں میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کی رہنما فرزانہ باری اور نسرین بھی شامل تھیں۔

عورت فاؤنڈیشن کے نمائندے نعیم مرزا کے مطابق پہلے پولیس نے صرف خواتین کو رہا کرنے کی پیشکش کی جب انہوں نے دیگر تمام گرفتار شدگان کی رہائی کے بغیر آزاد ہونے سے انکار کیا اور احتجاج کی دھمکی بھی دی تو پولس نے سب کو مشروط طور پر رہا کیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر نارو وال کی مسیحی برادری کی خاتون سے اجتماعی آبرو ریزی کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والوں پر تھانہ سیکریٹریٹ میں دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ داخل کیا گیا ہے۔

مبینہ اجتماعی آبرو ریزی کا شکار ہونے والی خاتون کی والدہ ایسٹر نعمت نے بعض غیر سرکاری تنظیوں کے نمائندوں کے ہمراہ ایک اخباری کانفرنس میں اعلان کیا کہ اگر انہیں انصاف نہیں ملا تو وہ پارلیمینٹ کے سامنے بمع اہل وعیال جان دے دیں گی۔

انہوں نے اس موقعہ پر بتایا کہ دو ماہ قبل نارو وال میں جب وہ گھر کی چھت پر سو رہے تھے، اچانک مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کی جواں سال بیٹی کو اغوا کرکے لے گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملزمان جو کہ با اثر ہیں پانچ دن تک ان کی بیٹی کی عزت لوٹتے رہے۔

متاثرہ خاتون کی والدہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے سات ملزمان کے خلاف مقامی تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی لیکن پولس نے صرف دو ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے بقول وہ بھی اجتماعی آبرو ریزی کی دفعات کے بجائے دیگر قابل ضمانت دفعات کے تحت ۔ جبکہ اہم ملزمان ابھی تک آزاد ہیں۔

ایسٹر نعمت نے بتایا کہ وہ انصاف کے لئے گزشتہ چودہ دنوں سے اسلام آباد میں پارلیمینٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ میں تھیں ان کے مطابق اسلام آباد کی بعض خواتین کے حقوق کی تنظیموں کی کارکنان بھی ان کے ہمراہ اظہار یکجہتی کی خاطر ان کے ساتھ کیمپ میں بیٹھتی تھیں لیکن منگل کے روز جب وہ کھانا لینے گئیں اس وقت پولس کیمپ سے تمام افراد کو گرفتار کرکے لے گئی۔

پریس کانفرنس میں غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں سرور خان باری ، کشور ناہید، نعیم مرزا اور دیگر کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملزمان کے بجائے مدعیوں کو گرفتار کر کےثابت کیا ہے کہ یہ اندھیر نگری ہے۔ ان کا دعوہ تھا کہ پاکستان کے آئین تحت احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں ایک ملزم نے پانچ سے دس لاکھ روپے کا لالچ دیکر خاموش رہنے کے لئے کہا ہے۔

ان کی رائے تھی کہ انہیں انصاف نہیں مل رہا جس سے انہیں یہ شدت سے احساس ہو چلا ہے کہ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ وہ مسلمانوں کے ملک میں غیر مسلم اقلیت ہیں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی مدد کرنے والے بیشتر مسلمان ہی ہیں۔

واضع رہے کہ چند دن قبل صدر جنرل پرویز مشرف نے زنا کے مقدمات میں سزا کے اسلامی قانون جسے ’حدود آرڈیننس، بھی کہا جاتا ہے میں ترمیم کرنے کا اشارہ بھی دیا تھا جس کی مذہبی تنظیموں نے شدید مخالفت کی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد