مختاراں کیس: چھ میں سے پانچ بری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے مظفر گڑھ کی مختاراں مائی گینگ ریپ کیس کے ایک ملزم کو قید کی سزا سناتے ہو ئے باقی ملزموں کو بری کر دیا ہے۔ مختاراں مائی کو پنچایت کے حکم پر مخالف قبیلے کے لوگوں نے اجتماعی زیادتی کا شکار بنایا تھا۔ جسٹس اعجاز چودھری اور جسٹس ایم اے شاہد صدیقی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ ملزمان کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کے بعد سنایا۔ یہ سماعت مسلسل تین دن جاری رہی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزمان فیض مستوئی، رمضان پچار، اللہ دتہ، فیاض اور غلام فرید کو بری کر دیا جب کہ ملزم عبدالخالق کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ ججوں نے کہا کہ پیش کردہ ثبوت ناکافی ہیں۔ انہوں نے پولیس کی تفتیش کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وکیلِ صفائی محمد سلیم نے اس موقع پر کہا کہ ’ انضاف کا بول بالا ہوا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ میڈیا اور حکومتی دباؤ کے نتیجے میں دیا گیا تھا‘۔ ڈیرہ غازی خان کی خصوصی عدالت برائے انسدادِ دہشت گردی نے اکتیس اگست سنہ دو ہزار دو کو پنچایت کے اراکین سمیت چھ ملزمان کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ مختاراں مائی نے اس حالیہ فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ میں اپیل کروں گی اور اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ہر جگہ جاؤں گی۔‘ انسانی حقوق کی وکیل حنا جیلانی نے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت پر زور دیا ہے۔ یاد رہے کہ میراں والا کی مقامی پنچایت نے مختاراں مائی کو ان کے بھائی کے ایک بااثر قبیلے کی لڑکی سے ناجائز تعلقات ہونے کے شبہ میں طلب کرکے مذکورہ قبیلے کے افراد سے کہا تھا کہ وہ بدلہ لے لیں۔ ان افراد نےمختاراں بی بی کی اجتماعی آبروریزی کے بعد انہیں گاؤں میں نیم برہنہ حالت میں گشت کروایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||