BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 May, 2005, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شرح ترقی، مہنگائی اور آپ کی زندگی
بینک کے لئے چلینج ترقی کی شرح کو برقرار رکھنا ہے
بینک کے لئے چلینج ترقی کی شرح کو برقرار رکھنا ہے
معیشت میں شرحِ ترقی اچھی بات ہے لیکن اگر ساتھ میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ترقی کی وہ شرح برقرار نہیں رہ سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کی شرحِ نمو رواں مالی سال کے اختتام پر آٹھ فیصد کے لگائے گئے اندازوں سے تجاوز کرجائے گی جو کہ ایک خوش آئند خبر ہے۔ لیکن بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ افراطِ زر کی موجودہ شرح گیارہ اعشاریہ پچیس فیصد ہوگئی ہے۔ بینک نے خبردار کیا ہے کہ ملکی معیشت میں افراط زر کا دباؤ عروج پر ہے اور اگر اسے قابو میں نہ کیا گیا تو طویل المیعاد ترقی پر بھی اپنے اثرات مرتب کرے گا۔

موجودہ مالی سال کے لئے حکومت نے افراطِ زر کی شرح میں اضافے کا تخمینہ پانچ فیصد رکھا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ افراطِ زر میں اضافہ حکومتی اندازوں سے سو فیصد زیادہ ہوا ہے۔ مبصر کہتے ہیں کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا، حکومت نے فوری کارروائی کے بجائے سست روی کا مظاہرہ کیا تھا اور منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کیے رکھی۔

پاکستانی معیشت کی شرحِ نمو اور ساتھ ساتھ افراط زر کی موجودہ شرح میں تیزی پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ اس کا معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا روزمرہ کام آنے والی اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
صرف زبانی جمع خرچ سے اگر کبھی کچھ ہوسکتا تو کسی کو کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ گو میں نے ایکونامِکس نہیں پڑھی لیکن گھریلو عورت ہونے کے ناطے اتنا ضرور بتاسکتی ہوں کہ عام انسان کی زندگی اس وقت جس قدر مشکل میں ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ آگے کیا ہونے والے وہ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔۔

علی رضوی، کراچی:
میرے خیال میں جی ڈی پی کا بڑھنا ایک ایکانومی کے لئے ایک اچھ شگن ہے۔ لیکن انفلیشن کا بڑھنا کوئی نیک شگن نہیں ہے۔ گورنمنٹ اور سینٹرل بینک دونوں کو انفلیشن کنٹرول کرنا پڑے گا ورنہ جی ڈی پی کی گروتھ یقینا کم ہوگی۔

ضمیر چودھری، لندن:
یہ تعجب کی بات ہے کہ حکومت آٹھ فیصد ترقی کی بات کررہی ہے اور مہنگائی گیارہ فیصد ہے۔ حقیقت ہے کہ صرف پراپرٹی سیکٹر میں ترقی ہوئی ہے پراپرٹی مافیا کی مدد سے جن میں بزنس مین، ملٹری جنرل وغیرہ شامل ہیں۔ اب نوجوان لوگوں کے پاس نوکریاں نہیں ہیں۔۔۔۔

عمران خان سیال، کراچی:
اس حکومت نے تو پچھلے سب حکومتوں کی ریکارڈ توڑ دی ہے۔ مہنگائی اتنی ہوگئی ہے کہ پوچھئے مت۔ غریب اور غریب ہوتا جارہا ہے اور امیر امیر۔ ہم پیٹرول کی قیمتوں سے اندازہ لگاسکتے ہیں۔ ہاں جب مشرف صاحب آئے تھے تو پیٹرول کی قیمت اٹھارہ روپئی لیٹر تھی اور آج ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت سینتالیس روپئے ہے۔۔۔۔

احتشام فیصل چودھری، شارجہ:
معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ افراطِ زر میں اضافہ قابل فہم بات ہے۔ مگر جس تیزی سے پاکستان میں رواں سال کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے یہ کسی حد تک خطرناک بات بھی ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں قیمتیں ایک دفعہ بڑھ جانے کے بعد کم نہیں ہوا کرتیں۔ حکومت کو چاہئے کہ افراط زر کا دباؤ کم کرنے کے لئے ایک سال تک بیرونی سرمایہ کاری میں تھوڑی کمی کرے اور اضافی نوٹ چھاپنے پر بھی پابندی لگادے۔ طلب و رسد کا توازن افراطِ زر کے اس افراط کو پھیلنے سے روک سکتا ہے۔

سید محمود، لاہور:
ہاں، اشیاء کی قیمتیں عوام کی خریداری کی قوت سے تجاوز کررہی ہیں۔۔۔۔

ظہیر لشاری، لاہور:
پاکستانی حکمرانوں نے ہمیشہ عوام کو بیوقوف بنایا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے جانب اگر آپ کے پاس فارن ریزرو ہیں تو اس سے عوام کو کیا فائدہ؟ ان سے تو وہ صرف قرضے ہی اتاریں گے جو آپ نے لیے تھے۔۔۔۔

محمد فراز، سندھ:
میں جناب شارٹ کٹ عزیز اور دوسرے منسٹروں کو دعوت دیتا ہوں کہ اس مہنگائی کے زمانے میں وہ تین ہزار کی سیلیری والے انسان کے گھر کا بجٹ بناکر دیکھیں۔ این جی او برانڈ ٹرمینیلوجیز استعمال کرکے حکومت صرف دھوکہ دےرہی ہے۔ اگر کسی کو اس ملک کی ایکونومی کا جنازہ نکلتے دیکھنا ہے تو کسی دن منارِ پاکستان پر جائے جہاں روزانہ دو یا تین لوگ خودکشی کرتےہیں۔۔۔۔

مجیب راجہ، الخبر:
دھڑا دھڑ اسٹیٹ بینک کا نوٹ چھاپنا اور اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے سے افراط زر نہیں بڑھے گا تو اور کیا ہوگا؟ اس طرح حکومت تو چلائی جاسکتی ہے لیکن حقیقتا معاشیات کی جڑیں مضبوط نہیں کی جاسکتیں۔ معاشیات کا تھوڑا سا علم رکھنے والے کو اس سے کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا ہے جب تک کوئی حکومت ٹریڈ بیلنس کو مدنظر نہیں رکھتی، افراط زر پر قابو پانا ایک خواب ہی ہوسکتا ہے۔ صرف پچھلے ماہ تجارتی خصارہ چار ارب ڈالر تھا۔ اس پر قابو پانے کے لئے حکومت کو لکزری گوڈس پر قابو پانا ہوگا۔ ان حالات میں حکومتِ پاکستان نہ تو بیرونی قرضہ سے جان چھڑا سکتی ہے اور نہ ہی افراط زر پر قابو پاسکتی ہے۔

ہارون مروات، ملازئی ٹینک:
ایک طرف تو ہمارے حکمران کہہ رہے ہیں کہ ہماری معیشت ملکی تاریخ کے سنہرے دور سے گزر رہی ہے۔ ہم نہ آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل ۔۔۔ لیکن دوسری طرف مہنگائی بےسنہرا دور سے گزر رہی ہے۔۔۔۔۔

محمد جمیل، دوبئی:
مہنگائی تو بڑھ رہی ہے اور غربت دن بہ دن بڑھ رہی ہے لیکن کسی نے عوام کا کبھی سوچا نہیں۔ اکثر ہم سنتے ہیں کہ اس کے عوام پر اثر نہیں پڑیں گےلیکن۔۔۔۔

ریاض فاروقی، دوبئی:
گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پاکستان میں کافی پیسہ آیا ہے لیکن کیوں کہ پاکستان میں حکومتی اداروں کا انفرااسٹرکچر اور وائیولینس کی وجہ سے لوگوں نے وہ پیسہ کاروبار میں نہیں لگایا، بلکہ اسٹاک ایکسچنج اور پراپرٹی کی بزنس میں لگا دیا، جس سے گروتھ ریٹ میں اضافہ نظر نہیں آیا جتنا کہ انفلیشن میں۔

کمال احمد منصور، فیصل آباد:
حکومت کی بہتری کے تمام طور دعووں کے باوجود پاکستان میں زندگی گزارنا محال سے محال تر ہوتا جارہا ہے۔ پتہ نہیں بہتری کے دعوے کس ملک کی معیشت کے کرتے ہیں۔۔۔ شاید یہ لوگ پاکستان ہی کی بات کرتے ہیں۔

ساجل احمد، لاس ویگاس:
گورنمنٹ کے کرپٹ ہونے سے بھی پہلے یہ بات ہے کہ اگر حکومت سب کچھ کھا جاتی ہے تو عوام بھی کہاں کسی سے کم ہیں۔ مہنگی اشیاء فروخت کرنے والے آخر کہاں سے آتے ہیں؟ نمبر ٹو چیزیں بنانے والے، بیچنے والے اور خریدنے والے کہاں سے آتے ہیں؟

عبدالسلام، پاکستان:
بھئی پاکستان کی یہ غیرجمہوری اور غیراسلامی حکومت جتنی بھی اعداد و شمار پیش کریں سب جھوٹ ہے۔ جب حکومت میں سارے چور بیٹھیں ہیں تو بھلا چور کی بات کوئی مانتا ہے؟ ہاں ایک چیز ضرور ہورہا ہے کہ پاکستان میں امیر امیر ہوتا جارہا ہے اور غریب غریب۔

شہزاد احمد، گجرات، پاکستان:
میرے خیال سے کوئی اس ملک کو ٹھیک سے نہیں چلاسکتا ہے۔ اسے کسی غیرسرکاری ادارے یا اقوام متحدہ کے ماہرین کے حوالے کردینا چاہئے۔ حکمران مستی کررہے ہیں۔۔۔۔

تلاوت بخاری، اسلام آباد:
ہم پاکستانی عوام تو ایک اِمپورٹیڈ بینکر کے زیرعتاب ہیں جس کو نہ تو اقتصادیات کی اور نہ ہی سیاست کی سمجھ ہے۔ جو موبائیل فون اور کاروں کی سیل سے عوام کی معاشی خوشحالی کا اندازہ لگاتا ہے، جبکہ مہنگائی اور بےروزگاری کے ہاتھوں خودکشیاں کررہے ہیں۔

ملک، کینیڈا:
پاکستان میں مہنگائی سمیت کسی ایشو کو ایڈریس کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے، صرف خمینی کی طرح کا انقلاب لانے کے سوا۔

زوبیہ ذیشان، مانٹریال:
میں پاکستان کی یہ خبر ماننے کے لئے بالکل ہی تیار نہیں ہوں کہ پاکستان میں ترقی اتنی ہورہی ہے۔ اگر مثال کے طور پر ہو بھی رہی ہے تو پھر بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ ہم نے وہ فائدہ غریب عوام تک نہیں پہنچتا دیکھا ہے۔ غریب آدمی اور بھی غریب ہورہا ہے اور امیر آدمی اور امیر۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہر دفعہ ایک مفاد پرست ٹولہ اوپر آکر بیٹھ جاتا ہے۔ اصل میں قصور ان کا بھی نہیں ہے، قصور صرف ہمارا ہے کیوں کہ یہ ہم ہی لوگ ہیں جو ان کو منتخب کرتے ہیں۔۔۔۔

خالدعباسی، کراچی:
پاکستان میں معاشیات کے تمام بنیادی اصول ناکام ہوچکے ہیں۔ مرکزی اصول یہ ہے کہ امیر امیرترین ہورہے ہیں اور غریب لوگ اور غریب ہوتے جارہے ہیں۔۔۔۔

سید خان، کینیڈا:
مجھے کینیڈا میں رہتے ہوئے دس سال ہوگئے ہیں۔ جب آیا تھا تو بکرے کا گوشت ساٹھ روپئے کیلو تھا اور میری سیلیری چھ ہزار روپئے تھی۔ آج بکرے کا گوشت ڈھائی سو روپئے ہوگیا ہے۔ کیا سیلیری اتنی بڑھی ہے؟ لوگ ایک دوسرے کو دھوکہ دینے لگے ہیں اور شاید قصور ان کا بھی نہیں۔ اپنے بچوں کو بھوکا دیکھنا شاید ناممکن کام ہے۔ دوسری طرف کریکٹرز اور دوسرے لوگوں کو گِفٹ بھی لاکھوں اور کروڑوں میں دیے جارہے ہیں۔ گورنمنٹ اپنی حفاظت کے لئے اربوں روپئے خرچ کررہی ہے۔ شاید ملک ترقی کررہا ہو اور کچھ مافیا بھی، مگر دس سال پہلے والے چھ ہزار آج کے چالیس ہزار سے زائد ہیں۔ میرے خِیال میں ہماری ترقی پیپر پر ہی ہے اور گورنمنٹ کی زبان پر۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
پاکستان کے اندر ترقی اور افراط زر بڑھنے کی صرف باتیں ہی ہیں، رات کو ٹی وی کے ’’جھوٹ نامہ‘‘ پر آکر جس طرح سرکار کہتی ہے اس طرح کردیا جاتا ہے۔ کوئی ترقی نام کی چیز نہیں ہے، جب حکمران ہی بدعنوان ہوں گے تو ترقی کیسے ہوگی؟ اس وقت تک ترقی نہیں ہوسکتی جب تک انڈسٹری نہیں لگے گی۔

سارہ خان، پشاور:
ہمیں تو پاکستان کی ایکانومی کی کچھ سمجھ نہیں آتی۔ کبھی کہتے ہیں کہ فارن ریزور کافی ہیں، اسٹاک ایکسچنج میں سو انڈیکس ایک ہزار سے اوپر ہیں، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف راتوں رات پریشان کن خبر دیدیتے ہیں۔۔۔۔

66پاکستان میں بیروزگار
’پاکستان میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے‘
66عالمی بینک کا قرضہ
مقصد غربت مٹاؤ یا پاکستانی فوج پر نوازشات
66غلط اندازوں کی افراط
اندازے غلط، افراطِ زر میں100 فیصد اضافہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد