بیروزگاری میں اضافہ: رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 36 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ بات سٹیٹ بینک کی معیشت کے بارے میں سالانہ رپورٹ میں بتائی گئی جو ہفتے کے روز جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روزگار کے میدان میں حکومت کی کارکردگی کے مایوس کن نتائج سامنے آئے ہیں اور بیروزگاری کی شرح سات اعشاریہ آٹھ سے بڑھ کر آٹھ اعشاریہ تین ہوگئی ہے۔ شہروں میں یہ شرح تقریبا دس فی صد بتائی گئی ہے۔ ملک میں اس وقت برسر روزگار افراد کی تعداد چار کروڑ اکتیس لاکھ بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان میں روزگار کے مواقع میں اضافے کی سالانہ شرح جنوبی ایشیا کے دیگر تمام ممالک سے کم ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں خواتین کے روزگار کے مواقع کی شرح بھی تمام علاقائی ممالک سے کم بتائی گئی ہے۔ پاکستان میں خواتین کے روزگار کے مواقع کی شرح اٹھارہ فی صد ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح پچاس فی صد اور بنگلہ دیش میں چونسٹھ فی صد ہے۔ رپورٹ میں معیشت کی عمومی صورتحال کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے برآمدات کے مقرر کردہ ہدف کو خطرہ لاحق ہے جبکہ افراط زر کی شرح بھی اس سال کے مقرر کردہ ہدف، کھانے کی چیزوں میں اضافے کی شرح تیرہ اعشاریہ چار فی صد بتائی گئی ہے۔اس طرح پچھلے سات سالوں میں افراط زر کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زرعی پیداوار میں کافی کمی ہوئی اور پچھلے سال کی نسبت اس سال زرعی پیداوار مقررہ ہدف، جو کے چار اعشاریہ دو فی صد تھا، کے بجائے صرف دو اعشاریہ چھ فی صد ہی بڑہ سکی۔ تاہم سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ معیشت کی پیداوار کا سالانہ ہدف جو کہ چھ اعشاریہ چھ ہے حاصل کر لیا جائے گا جس کی بڑی وجہ صنعتی ترقی کی زبردست شرح پیداوار ہے جو کے اٹھارہ اعشاریہ ایک فی صد ریکارڈ کی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||