سات برس: افراطِ زر میں سو فیصد اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے افراطِ زر میں اضافے کی شرح گیارہ اعشاریہ ایک تک پہنچ چکی ہے جو گزشتہ سات برس میں سب سے زیادہ ہے۔ موجودہ مالی سال کے لیے حکومت نے افراطِ زر کی شرح میں اضافے کا تخمینہ پانچ فیصد رکھا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ افراطِ زر میں اضافہ حکومتی اندازوں سے سو فیصد زیادہ ہوا ہے۔ پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنی سہ ماہی رپورٹ میں مرکزی بینک نے بڑے محتاط انداز میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ہی یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے افراطِ زر کی شرح میں کمی ہوتی ہے یا نہیں اور خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے یا نہیں۔ مہنگائی میں اضافہ اچانک نہیں ہوا بلکہ تقریباً تمام اعداد و شمار اور زمینی حقائق گزشتہ کئی ماہ میں اس کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اس کی وجوہات میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ خصوصاً اشیائے خورو نوش اور معیشت میں آٹھ اعشاریہ تین پانچ 8.35 فیصد اضافہ ہے۔ تاہم مبصر کہتے ہیں کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا تو حکومت نے فوری کارروائی کی بجائے سست روی کا مظاہرہ کیا تھا اور منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کیے رکھی۔ افراطِ زر ماپنے کی پیمائش میں سب سے زیادہ چالیس فیصد اہمیت اشیائے خورد و نوش کی ہے جبکہ 23 فیصد سے زیادہ اہمیت مکان کے کرایوں کی ہے۔
اگر افراطِ زر کی موجودہ شرح کا موازنہ گزشتہ سال سے کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ اس میں پندرہ اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح جولائی سے اپریل کے دس ماہ میں مہنگائی کی شرح میں 9.27 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر اسد سفیر کے مطابق اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے غریب ترین طبقوں اور آبادی پر سب سے زیادہ برا اثر پڑتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ معاشرے کے وہ لوگ جو درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اب غریب طبقے میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ اس اضافے کے مقابلے میں ان کی آمدنی میں خاطرہ خواہ اضافہ نہیں ہوا اور ان کو اپنی ضروریات سے جن میں پھلوں کی خرید بھی شامل ہے دستبردار ہونا پڑا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مارچ کے مقابلے میں اپریل میں پیاز کی قیمتوں میں 68 فیصد، آلو کی قیمت میں 38 فیصد اور تازہ پھلوں کی قیمت میں 23 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مرغی کی قیمت میں 22 فیصد اور سبزیوں کی قیمت میں آٹھ فیصد تیزی آئی۔ گندم، چینی اور گوشت کے تاجروں اور کارخانے کے مالکوں نے گٹھ جوڑ سے کام چلاتے ہوئے ذخیرہ اندوزی کا سہارا لیا اور حکومت اس سلسلے میں کچھ نہ کر سکی۔ حکومت کہتی ہے کہ مہنگائی میں اضافہ اس کی توقعات سے زیادہ ہوا ہے۔ تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ اشیاء کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔
وزیرِ اعظم کے خزانے کے مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں کہ حکومت اشیائے ضروریہ اور اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کو بڑھا رہی ہے اور اس نے گوشت، جانوروں ، ادرک، پیاز، ٹماٹر، اور آلوکی بغیر کسی ٹیکس اور ڈیوٹی کے درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ یہ درآمد بھارت سے زمینی ذرائع آمد و رفت سے بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ کرنے اور تقریباً بیس دن گزر جانے کے باوجود یہ درآمد ابھی تک شروع نہیں ہو سکی ہے۔ سلمان شاہ کہتے ہیں کہ جانوروں کی صحت اور سبزیوں کی ترسیل کے لیے واہگہ سرحد پر اقدامات ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ یہ بھی کہتے ہیں کہ معیشت کی شرحِ نمو اور افراطِ زر میں اضافہ اتنی بری بات نہیں ہے جتنی افراطِ زر میں اضافے کے ساتھ شرحِ نمو میں اضافہ نہ ہونا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے خیال میں منافع کی شرح میں کمی کی وجہ سے لوگ بینکوں سے قرضے لے کر گاڑیوں، بلیک مارکیٹ اور پراپرٹی اور دوسرے غیر ترقیاتی مصرف میں لا رہے تھے جس کی وجہ سے افراطِ زر میں اضافہ ہو رہا تھا۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ آیا سود کی شرح میں اضافہ بلیک مارکیٹ اور زمینوں کی غیر معمولی قیمتوں کو استحکام دینے کا باعث بنتا ہے یا کارخانوں کی قیمتِ پیداوار میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو تمام حکومتی اقدامات کے باوجود مستقبل قریب میں ابتدائی طور پر افراطِ زر کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یا کم از کم اس کی شرح میں فوری طور پر کمی ممکن نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||