BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2004, 07:53 GMT 12:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان پسماندگی کے پندرہ سال‘
انسانی ترقی کے ہر شعبے میں پاکستان جنوب مشرقی ایشیا میں پیچھے ہے
انسانی ترقی کے ہر شعبے میں پاکستان جنوب مشرقی ایشیا میں پیچھے ہے

عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی اقتصادی پالیسیوں پر عمل کرنے کی وجہ سے گزشتہ پندرہ سالوں میں جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں غربت اور بے روز گاری میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

پیر کو شائع ہونے والی محبوب الحق ڈویلپمنٹ سینٹر کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں اقتصادی ترقی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی ڈھانچے کو بدلنے کے لیے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے تعاون سے چلائی جانے والی پالیسیوں کا دراصل منفی اثر ہوا ہے اور وہ تمام اہداف جن میں ادائیگیوں کا توازن، افراطِ زر میں کمی اور ترقی کی رفتار کو بحال کرنا شامل تھے حاصل نہیں کئے جا سکے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اقتصادی ترقی میں خواتین کی شمولیت کی شرح کے لحاظ سے بھی پاکستان جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں سب سے پیچھے رہا۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یہ شرح صرف پندرہ عشاریہ چار فیصد رہی جبکہ بھارت میں یہ شرح چونتیس عشاریہ پانچ فیصد، بنگلہ دیش میں ستاون عشاریہ دو فیصد، نیپال میں پچاسی فیصد، سری لنکا میں اکتالیس عشاریہ ایک فیصد، بھوٹان میں انسٹھ عشاریہ چھ فیصد اور مالدیپ میں اٹھائیس عشاریہ چھ فیصد رہی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں یعنی انیس سو نوے سے سن دوہزار تک پاکستان میں بے روز گاری کی شرح سات عشاریہ آٹھ فیصد رہی جو کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں سب سے زیادہ تھی۔

بھارت میں اسی عشرے میں کل آبادی کا سات عشاریہ تین فیصد لوگ بے روز گار تھے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح تین عشاریہ تین فیصد، نیپال میں ایک عشاریہ ایک فیصد، بھوٹان میں ایک عشاریہ چار فیصد اور مالدیپ میں دو فیصد تھی۔

آبادی میں اضافے میں پاکستان نے بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور سن انیس سو پچانوے سے سن دوہزار تک پاکستان کی آبادی میں دو عشاریہ چھ دو فیصد اضافہ ہوا ہے اور سن دو ہزار پانچ تک اس کی رفتار دو عشاریہ چار چار رہنے کی توقع ہے۔

خطے کا مجموعی تجزیہ کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے بیس سالوں میں جنوبی ایشیا میں کام کرنے کے قابل افراد میں پچاس کروڑ کا اضافہ متوقع ہے اور اس خطے کے ملکوں کی حکومتوں کو بے روزگاری کے مسئلہ کو بہت سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد