سینیٹ میں مہنگائی پر بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا ’سینیٹ‘ میں پیر کے روز حزب مخالف نے پیٹرول اور گیس کے نرخوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر دونوں جانب کے اراکین میں گرما گرمی ہوگئی۔ حزب مخالف نے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا جو متعلقہ وزراء نے مسترد کرتے ہوئے اضافے کو جائز قرار دیا۔ سینیٹ میں پیر کے روز نجی کارروائی کا دن تھا لیکن بیشتر وقت اراکین نے نکتہ اعتراضات پر باتیں کرتے گزارا اور اس دوران حزب مخالف اور حکومتی اراکین میں گرما گرمی اور سخت الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔ قائد حزب اختلاف رضا ربانی نے حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی مہنگائی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن ’ کے ای ایس سی‘ کی نجکاری پر حکومتی پالیسیوں کو عوام دشمن قرار دیا تو وزیر مملکت ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے مداخلت کی۔جس پر حزب مخالف کے سینیٹر انور بیگ نے وزیر کو باآواز بلند ’بیٹھ جاؤ، ’چپ کرو، کی آوازیں دیں تو شور پڑ گیا۔ وزیر نے رضا ربانی پر پھر بھی اعتراض جاری رکھا اور کہا کہ وہ نکتہ اعتراض پر ایسی بات نہیں کرسکتے۔ اس پر اسفند یار ولی نے اعتراض کیا تو ان کی وزیر سے گرما گرما ہوگئی ۔ اسفند یار نے کہا کہ اگر مہنگائی کے معاملے پر ایوان میں حزب مخالف والے کوئی بات نہیں کرسکتے تو کسی کا باب بھی انہیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا۔ جس پر وزیر اور ان کے درمیاں سخط جملوں کا تبادلہ ہوا۔ رضا ربانی نے چیئرمین سینیٹ سے کہا کہ جو وہ بات کر رہے ہیں اس پر ان کے چیمبر میں طئے ہوا تھا اور قائد ایوان نے اتفاق بھی کیا تھا۔ لہٰذا ان کے مطابق وزیر کے اعتراض بلاجواز ہے۔ پروفیسر خورشید نے کہا کہ سن ننانوے میں پیٹرول کی قیمت انیس روپے فی لٹر تھی جو اب ساڑھے بیالیس روپے ہوگئی ہے۔ انہوں نے ایوان میں مہنگائی پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر برائے نجکاری ڈاکٹر عبدالحفیط شیخ نے ایوان کو بتایا کہ ’ کے ای ایس سی‘ کی خریدار کمپنی اور حکومت میں معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت خریدار کمپنی کسی ملازم کو برطرف نہیں کر سکے گی۔ جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان نے گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو جائز قرار دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے سے اضافہ کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران بتیس ارب روپوں کی حکومت نے ’سبسڈی، دی اور پیٹرول کی قیمت بڑھنے نہیں دی۔ وزراء نے مہنگائی اور ’ کے ای ایس سی‘ کے معاملات پر البتہ بحث کی مخالفت نہیں کی۔ جس پر دونوں جانب کے درمیان اتفاق ہوا کہ آئندہ دنوں ان معاملات پر کھل کر بحث کی جائے گی۔ ایک موقع پر جب حکومت کے حامی رکن ایاز خان جوگیزئی نے بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کی حمایت تو اس پر حزب محالف کے بلوچ سینیٹرز کھڑے ہوگئے اور دونوں جانب کے اراکین بولنا شروع ہوگئے جس سے ایوان میں شور پڑگیا۔ قبل ازیں اجلاس شروع ہوا تو چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ ایوان میں موبائیل فون کے استعمال، آپس میں باتیں کرنے اور کھانے پینے سے گریز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اراکین سینیٹ اور گیلریز میں بیٹھے ہوئے لوگ ایوان کا احترام کریں اور ان کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||