گاؤں جیا بگا میں بجٹ کی تلاش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’وہ جو مہنگائی ہوتی ہے؟‘ ’میں نے تو پہلی بار لفظ بجٹ سنا ہے۔‘ ’ہم غریبوں کو کیا پتہ کہ بجٹ کیا ہے، ہم پر تو چار پانچ لاکھ کا قرض ہے، بچت کا مجھے کیا پتہ وہ کیا ہوتی ہے؟‘ ’ماں جی میں بچت نہیں پوچھ رہا بجٹ کا پوچھ رہا ہوں بجٹ بجٹ‘ میں نے سنیچر کے روز جب ہر طرف بجٹ کا چرچا ہو رہا تھا، ٹی وی، اخبارات، ریڈیو، انٹرنیٹ پر بجٹ کی جھلکیاں چل رہی تھیں، ماہرین کا ردعمل آ رہا تھا، ہم شہروں میں رہنے والوں کو ہر طرف بحث و مباحثہ ہوتا نظر آرہا تھا، میں بجٹ پر دیہات کے لوگوں کا ردعمل معلوم کرنے کے لیے لاہور کے ایک نواحی گاؤں جیا بگا جا نکلا اور مجھے یوں لگا کہ ریڈیو کے لیے یہ ایک مشکل ترین اسائنمنٹ ہے۔ آپ ایسے آدمی سے کیا ردعمل لے سکتے ہیں جسے بجٹ کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہے؟اور کسی کو سمجھا، سکھا کر اس کی ریکارڈنگ اس لیے نہیں کرسکتے کہ بی بی سی والے کہتے ہیں کہ کسی کوسکھا پڑھا کر اس کا انٹرویو کرنا منع ہے، ہمارےاصولوں کے خلاف ہے وغیرہ وغیرہ۔اچھی خاصی مصیبت میں پھنس گیا۔
اصرار کرو کہ’ کچھ تو بولو‘ تو جواب ملتا ہے ’بھائی جی میں نے کہا ناں مجھے نہیں پتا‘۔ پھر گاؤں کا ایک نوجوان محمد منشا میرا مسئلہ سمجھ کر میری مدد کو تیار ہوگیا۔ دور سے ایک ستر سالہ سائیکل سوار پنجرے میں چوزے لیکر گاؤں لوٹتا دکھائی دیا تو اسے روک لیا گیا۔ خیال تھا کہ روز چوزے فروخت کرنےشہر جاتا ہے، اسے ضرور علم ہوگا کہ بجٹ کیا ہوتا ہے۔ چوزوں کے تاجر بابا بشیر نے پہلے تو صاف کہہ دیا کہ ہم غریبوں کو کیا پتہ بـجٹ کیا ہوتا ہے پھر ہمیں پریشان دیکھ کر کہا کہ’ اچھا پوچھو کیا سوال ہے‘؟ سوال: ہر سال بجٹ آتا ہے اس کا دیہات کے لوگوں پر کیا اثر ہوتا ہے ؟ ’ہاں آتا ہے ہاں ہمیں اتنا پتہ ہے کہ بجٹ آتا ہے تو اس سے ایک دم مہنگائی ہوجاتی ہے اور بس‘یہ کہہ کر وہ جلدی جانے کا بہانہ کر کے نکل گئے۔ پھر محمد منشا مجھے ایک خاتون خورشید بی بی کے پاس لے گئے۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان چلاتی ہیں ان کی روزانہ آمدن دس سے پندرہ روپے ہے۔محمد منشا کے خیال میں وہ خاصی سمجھدار ہیں۔ خورشید بی بی کا خیال ہے کہ کاروبار کیا جائے اور جو منافع ہو اسے بجٹ کہا جاتا ہے۔ جب میں نے اپنے طور پر قومی بجٹ کی وضاحت کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹ نہیں بولیں گی اور صاف بات یہ ہے کہ انہیں علم نہیں کہ بجٹ کس بلا کا نام ہے۔ انہوں نے دور سے آتی ایک پینسٹھ سالہ خاتون کو بلایا اور کہا کہ یہ عالم بی بی ہے اور بڑی سیانی ہے اسے پوچھیں۔ میں نے پوچھا کہ بجٹ کیا ہوتا ہے تو انہوں نے جواب دیا ’مجھے کیا پتہ بچت کیا ہوتی ہے مجھ پر تو چار پانچ لاکھ روپے کا قرض ہے۔ بیٹا ساؤتھ(جنوبی) افریقہ میں پردیس کاٹ رہا ہے پھر بھی گھر کے جی (افراد) بھوکے مر رہے ہیں۔ دو ایکڑ زمین تھی وہ بھی بک گئی۔ ہمیں تو پولٹری فارم(کا نقصان) کھا گیا ہم سے بچت کا کیا پوچھ رہے ہو۔، میں نے کہا کہ’ماں جی میں بچت نہیں پوچھ رہا بجٹ کا پوچھ رہا ہوں بجٹ بجٹ‘ ان کا جواب تھا ،’پتر(بیٹا) مجھے کیا معلوم بجٹ کیا ہوتا ہے یہ تو پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے مجھے توصرف نماز اور قرآن پڑھنا آتا ہے۔‘ اٹھارہ سالہ بے روزگار نوجوان محمد امین کے خیال میں بجٹ کوئی ایسی شے تھی جسے ان کے گاؤں آنا تھا لیکن نہیں آئی۔ ان سے میں نے پوچھا تھا کہ’ آج ہی قومی بجٹ آیا ہے ان کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘ تو انہوں نے بجٹ کے آنے کی فوری تردید کردی ان کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں میں کوئی چیز نہیں آئی۔ ان کی دلیل تھی کہ اگر کوئی چیز گاؤں میں آتی تو چھپی نہیں رہ سکتی تھی اور سب کو اس کا علم ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ’دراصل یہ سب کاغذوں میں ہوتا ہے اور جو موٹے موٹے حکومتی کارندے ہوتے ہیں وہ سب خود ہی کھا جاتے ہیں اور گاؤں تک کچھ نہیں پہنچتا‘۔ رات ہو چکی تھی اس لئے میں گاؤں سے نکل آیا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی ستر فیصد سے زائد آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ لیکن موضع جیا بگا کسی دور افتادہ علاقہ کا کوئی پسماندہ گاؤں نہیں ہے۔ یہ لاہور سے صرف بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس گاؤں کے بیچوں بیچ کارپٹڈ(تارکول بجری) والی سڑک گزرتی ہے، بجلی اور سیوریج کی سرکاری سہولیات میسر ہیں، پکے مکان ہیں اور گاؤں کے بچے سکول بھی جاتے ہیں۔ اس گاؤں کے لوگوں کی بجٹ سے اسقدرلاعلمی میرے لیے حیرت کا باعث ہے۔ استاد کہتے ہیں کہ جس چیز پر آپ کو حیرت ہو وہ بھی خبر ہوتی ہے۔ لو پھر تو میرا کام بن گیا۔ میری اسائنمنٹ مکمل ہو چکی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||