دفاعی بجٹ میں سات فیصد اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کے روز پیش کئے گئے وفاقی بجٹ میں دفاعی اخراجات میں سات فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ آئندہ سال کے لئے دفاع کی مد میں ایک سو چورانوے ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں چودہ ارب روپے زیادہ ہیں۔ وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت عزیز نےاگلے مالی سال کے لئے نو سو دو ارب روپے کا سالانہ بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں چونتیس ارب روپے زیادہ ہیں۔ بجٹ میں امن و امان کے لیے بھی ایک سو پچاس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابل ملک کی غربت میں چار عشایہ دو فیصد کمی ہوئی ہے۔ حکومت نے عام صارف کے لیے بجلی کی قیمت میں دس پیسے فی یونٹ، تجارتی مقاصد کے لیے پچیس پیسے فی یونٹ اور صنعتی مقاصد کے لیے اڑتیس پیسے فی یونٹ کمی کی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں متوقع اضافہ نہیں ہوا تاہم پندرہ فیصد مہنگائی الاؤنس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی قرضوں پر سود کی شرح چودہ فیصد سے کم کر کے نو فیصد کر دی گئی ہے۔ میر ظفراللہ خان جمالی کی قیادت میں مسلم لیگ کی حکومت کی طرف سے پیش کیا جانے والا یہ دوسرا بجٹ ہے۔ آج صبح کابینہ میں اس بجٹ پر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کے مسئلے پر بحث ہوئی اور جزوی تبدیلیوں کے بعد یہ بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||