وفاقی بجٹ کیسا ہو؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند دنوں بعد پاکستان کا وفاقی بجٹ آنے والا ہے اور بڑے شہروں میں منعقد کیے جانے والے سیمیناروں میں آجکل وفاقی وزیر خزانہ شوکت عزیز اور اسٹیٹ بینک کے گورنر عشرت حسین معاشی امور پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ پاکستان کے قومی اخبارات نے ان دونوں کے خیالات کو بنیاد بناتے ہوئے جمعہ کے روز اپنے اداریے لکھے ہیں جن میں حکومت سے ایسا بجٹ بنانے کو کہا گیا ہے جس سے زیادہ روزگار پیدا ہو اور غریب طبقوں کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے اقدامات کیے جائیں۔ انگریزی اخبار دی نیوز نے لکھا ہے کہ جو معاشی اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں وہ زبردست ہیں جیسے اگلے سال ملک کی مجموعی پیداوار پانچ ٹریلین روپے ہوجاۓ گی۔ ایک دو برسوں میں ملک کا مالی بجٹ ایک ٹریلین روپے ہوجاۓ گا۔ حکومت چھ فیصد کی جگہ آٹھ فیصد سالانہ معاشی ترقی کی شرح کے لئے کوشش کررہی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اب جبکہ معیشت کی ترقی بہت زیادہ ہوچکی ہے اور مزید ہونے والی ہے تو بجٹ کا زور ان طبقوں کو ریلیف دینے پر ہونا چاہیے جو اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی ان مستحق طبقوں کے لیے جو ریلیف لائے گی اس کے ساتھ ساتھ ان کو براہ راست فائدہ پہنچانے والے اقدامات بھی اٹھائے جانے چاہئیں۔ انگریزی روز نامہ ڈان نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت عزیز نے صحیح طور پر کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں فزیکل انفراسٹرکچر کی ترقی اور غربت کے خاتمہ پر زور دیا جاۓ گا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ سڑکیں ، ریل کا نظام اور بندرگاہیں بناتے ہوئے حکومت اس بات کا خیال کرے گی یہ ترقیاتی پروگرام ایسے ہوں جس میں انسانی ہاتھوں کی زیادہ ضرورت ہو کیونکہ اس سے روزگار کے موقع پیدا ہوں گے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ روزگار پیدا کرکے ہی معاشی ترقی کے فوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ خبروں سے لگتا ہے کہ حکومت تعمیرات کی صنعت میں استعمال ہونے والی اشیا پر ٹیکس کم کرے گی۔ اگر ایسا ہوا تو روزگار پیدا کرنے والے ایک شعبہ کو پھلنے پھولنے کا بہت موقع ملے گا۔ اخبار نے کہا ہے کہ امید ہے کہ آئندہ بجٹ میں صحت اور تعلیم پر خرچ کی جانے والی رقوم میں اضافہ کیا جائے گا۔ انگریزی روزنامہ دی نیشن نے وزیر خزانہ کی طرف سے معاشی بہتری کے اعداد وشمار پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے اداریہ میں لکھا کہ معاشی بحالی موافق سیاسی حالات کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ دی نیشن کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت پر عالمی اعتماد ، جیسا کہ حالیہ یورو بونڈ کے معاملہ پر دیکھنے میں آیا ، کوئی زبردست معاشی کارکردگی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس توقع کی بنیاد پر ہے کہ پاکستان خارجہ امور میں امریکی موقف کے مطابق کام کرتا رہے گا اور اسے امریکی پیسے ملتے رہیں گے۔ اخبار کا موقف ہے کہ پاکستان کے جو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور ان کے زیر کنٹرول مالی اداروں سے پیسے ملے ہیں، پیرس کلب نے قرضوں کی تاخیر سے واپسی کو قبول کیا اور امریکہ میں نو ستمبر کے واقعہ کے بعد دنیا میں مسلمانوں کے خلاف بننے والے ماحول میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ملک میں رقوم کی ترسیل بڑھا دی۔ اخبار کے مطابق شوکت عزیز کا یہ کہنا کہ پاکستانی معیشت چھ فیصد سالانہ ترقی کی شرح حاصل کرچکی ہے اور اب آٹھ فیصد سالانہ ترقی اس کا ہدف ہے لیکن وزیر خزانہ ایک ایسی میعشت کے بارے میں کچھ زیادہ خوش اُمیدی دکھا رہے ہیں جو بیرونی بیساکھیوں پر قائم ہے۔ دی نیشن نے ہی اسٹیٹ بینک کے گورنر عشرت حسین کے اس نو نکاتی ایجنڈے پر بھی بات کی ہے جو انھوں نے اگلے روز ملک کی بتیس فیصد سے زیادہ غریب آبادی کی مفلسی کے خاتمہ کے لیے تجویز کیا تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ عشرت حسین نے یہ کہا ہے کہ حکومت کو فزیکل انفراسٹکچر کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبہ مں بھی کام کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر غربت کو موثر طریقے سے کم کرنا اور پھر ختم کرنا ہے تو دیہی عوام کا معیار بلند کرنا ہوگا۔ عشرت حسین کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے دیہات کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا اور اس لیے زرعی تحقیق، نہروں اور کھالوں کی پختگی اور منڈی کی بہتر سہولتوں کی فراہمی جیسے اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے ریاست کی مداخلت درکار ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے دیہی غربت کے خاتمہ کے لیے زرعی اصلاحات کی بات نہیں کی حالانکہ تیسری دنیا کے کئی ملکوں جیسے کوریا اور چین میں زبردست دیہی ترقی میں زرعی اصلاحات کا ہاتھ ہے۔ اخبار نے عشرت حسین کی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اگر دہشت گردی پر قابو نہ پایا گیا تو معیشت میں ترقی کی موجودہ شرح کو برقرار رکھنا اور بیرونی سرمایہ کاری کو ملک میں لانے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||