پاکستان:اربوں روپوں کے گھپلے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آڈیٹر جنرل پاکستان نے مالی سال برائے جولائی دو ہزار ایک سے جون دو ہزار دو کے لئے تمام وفاقی وزارتوں‘ ڈویژونوں، ان سے ملحقہ خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کی آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپوں کی مالی اور انتطامی بےضابطگیوں، گھپلوں اور بدعنوانی کی نشاندہی کی ہے۔ ہر ادارے کے متعلق علحیدہ علحیدہ شائع شدہ رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت کی کوئی وزارت یا ادارہ ایسا نہیں جس میں مالی اور انتظامی بے ضابطگی، گھپلے یا بد عنوانی نہ ہوئی ہو ۔ آڈیٹر جنرل پاکستان جو کہ آئینی عہدہ ہے وہ آئین کی شق ایک سو انہتر کے مطابق وفاقی اور صوبوں کے بجٹ کے آڈٹ کا مجاز ہے۔ جبکہ شق ایک سو اکہتر کے مطابق وہ وفاقی بجٹ کے متعلق صدر مملکت اور صوبے کی رپورٹیں متعلقہ گورنر کو پیش کرنے کا پابند ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد صدر مملکت قومی اسمبلی جبکہ گورنرصوبائی اسمبلی میں رپورٹیں بھیجتے ہیں جن پر بحث ہوتی ہے۔ پیر بائیس مارچ دو ہزار چار کو حکومت نے مالی سال برائے 2001-2002 کے متعلق آڈیٹر جنرل کی یہ رپورٹیں قومی اسمبلی میں تمام اراکین کو پیش کی تھیں۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی رپورٹوں میں اربوں روپوں کے گھپلے، بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور متعلقہ حکام سے مطلوبہ رقم وصول کرنے پر زور دیتے ہوئے ان کے خلاف انضباطی کاروائی کی سفارش کرتے ہوئے آئندہ قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی نہ کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے۔ لیکن ہر سال آڈیٹر جنرل ایسے کہتے اور کرتے ہیں لیکن عملدر آمد نہیں ہوتا اور نہ ہی مالی اور انتظامی بےضابطگیوں میں کمی آتی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے وزارت دفاع ‘ افواج پاکستان اور دیگر ملحقہ اداروں کے متعلق رپورٹ میں چالیس ارب روپوں سے زائد سنگین مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ چند سال قبل جب آڈیٹر جنرل رپورٹ مرتب کرتا تھا تو متعلقہ محکمے کے بدعنوانی اور بے ضابطگی کرنے والے افسر کا نام اور عہدہ بھی لکھتا تھا لیکن جب سے ہر سال میڈیا نے یہ رپورٹیں شائع کرنا شروع کی ہیں اس وقت سے شفاف اور بہترین حکمرانی قائم کرنے کےدعوؤں کے با وجود اب متعلقہ افسروں اور عہدوں کے نام بھی نامعلوم وجوہات کی بنا پر غائب کردیئےجاتےہیں۔ واضح رہے کہ وزارت دفاع میں گھپلوں کی خبریں متعلقہ فوجی افسران کے نام اور عہدوں سےماضی میں شائع بھی ہوتی تھیں ۔ افواج پاکستان کے متعلق عام تاثر ہے کہ وہ انتہائی منظم اور نظم وضبط کے تحت کام کرتے ہیں لیکن آڈیٹر جنرل کی رپوٹ اس کے برعکس ہی کہتی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے دفاع کے متعلق رپورٹ میں کہا ’دفاعی مقاصد کیلئے حاصل کردہ زمین تو پہلے ہی رہائش کے لئے استعمال کرتے تھے لیکن اب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے دیگر دفاعی وسائل بھی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لئےخرچ کرنا شروع کردیئے ہیں ۔ دفاعی مقاصد والی زمین پر سینماگھر مارکیٹ اور پٹرول پمپ بنائے جاتے ہیں ۔ رپورٹ میں یہ سنگین الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ دفاعی فنڈز نجی ہاؤسنگ سکیمز پر خرچ کردیئے جاتے ہیں جیسا کہ فضائیہ کے افسران کیلئے تعمیر کی جانے والی ترنول روالپنڈی میں نجی ہاؤسنگ سکیم کیلئے فوجی گاڑیاں استعمال کی گئیں جس پر ساٹھ لاکھ سے زائد رقم دفاعی مقاصد کیلئے مختص رقم سے خرچ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق کلاس ون کی ایک اورفوجی زمین جس کی مالیت 96 کروڑ سے بھی زائد ہے وہ گولف کورس عسکری ہاؤسنگ سکیم آرمی پبلک سکول اور بحریہ کمپلکس وغیرہ کیلئے غیر قانونی استعمال کی جارہی ہے۔ جبکہ کمرشل املاک سے ہونے والی آمدنی بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہوتی ۔ غیر شادی شدہ فوجیوں کیلئے رہائش تعمیر کرنے کی منظور کردہ رقم شادی شدہ فوجیوں کی رہائش کی تعمیر پر خرچ کی گئی۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ آڈٹ کے تقریباً دو سال بعد جاری کی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||