سرحد حکومت کی صدر سے اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکزی حکومت اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم پر کئی ماہ کے بظاہر بلانتیجہ مذاکرات کے بعد اب صوبہ سرحد کی حکومت نے صدر پرویز مشرف سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ سینیئر صوبائی وزیر سراج الحق نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی کی جانب سے قومی مالیاتی کمیشن کے ایک خصوصی اجلاس میں پیش کی جانے والی تجاویز کو صوبے کے مفادات کے خلاف کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ صوبہ سرحد کے سینیئر وزیر سراج الحق بقول چاروں صوبے مجموعی وسائل کا نصف ان کے درمیان تقسیم کرنے کے مطالبہ پر ڈٹے ہیں جبکہ مرکز انہیں سینتالیس فیصد سے زیادہ دینے کو تیار نہیں۔ صوبائی وزیر نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعظم جمالی کی جانب سے طلب کئے جانے والے اسلام آباد اجلاس میں پیش کی جانے والی تجاویز پر انہوں نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی تمام تجاویز میں سرحد کے لئے خسارا ہی لکھا ہے۔ انہوں نے صدر مملکت جنرل پرویز مشرف سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کے حل کے لئے از خود قدم اٹھائیں۔ انہوں نے بتایا کے سرحد اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ ایک دو روز میں اس سلسلے میں صدر سے ملاقات بھی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمزور صوبوں کا مطلب ہے کمزور فیڈریشن۔ صوبائی وزیر نے نئے قومی مالیاتی کمیشن پر دستخط کو صوبے کو اس کا حق ملنے سے مشروط کیا۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سراج الحق نے بجلی کے منافع کی ادائیگی کے مسئلے کے جلد حل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس قضیے کے حل میں ثالثی کے لئے قائم کی گئی کمیٹی کا اجلاس جلد طلب کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مبصرین کے خیال میں موجودہ اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے مالیاتی کمیشن کے ایوراڈ کا اعلان وفاقی بجٹ سے پہلے مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||