BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2004, 10:14 GMT 15:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسبہ بل کے خلاف دائر پٹیشن خارج

پشاور ہائی کورٹ

پاکستان کے صوبہ سرحد میں پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے مجوزہ متنازعہ حسبہ بل کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔

اس مجوزہ بل کے تحت دینی جماعتوں پر مشتمل صوبائی حکومت ایک ایسے ادارے کے قیام کا ارادہ رکھتی ہے جس کے ذریعے وہ معاشرے کو بقول اس کے اسلامی اقدار کے مطابق ڈھال سکے البتہ اس بل کے ناقدین اسے طالبان پولیس جیسے ادارے کی قیام کا ارادہ قرار دیتے ہیں۔

پشاور ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر شیر افگن خٹک نے حسبہ بل کو آئین اور قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو اسے سرحد اسمبلی میں پیش کرنے سے روکنے کی خاطر اس مجوزہ بل کے خلاف ایک رٹ پٹیشن پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

آج پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شاکر اللہ جان اور جسٹس دوست محمد خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس رٹ کی سماعت کی۔

درخواست گزار شیر افگن نے اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت اس بل کے ذریعے ایک متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جوکہ بقول ان کہ مروجہ قوانین اور آئین سے متصادم ہے۔ انہوں نے عدالت سے صوبائی حکومت کو یہ بل اسمبلی میں پیش کرنے سے روکنے کی استدعا کی۔

اس درخواست پر اظہار ِخیال کرتے ہوئے جسٹس دوست محمد نے کہا کہ اس بل نے ابھی قانون کی شکل اختیار نہیں کی ہے اور درخواست گزار سے کہا کہ جب اسے صوبائی اسمبلی منظور کرلے تب اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایم اے کے اراکین کو عوام نے منتخب کیا ہے لہذا وہ قانون سازی کا حق رکھتے ہیں۔

اس درخواست پر مختصر سی بحث کے بعد عدالت نے اس ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

کیا یہ رٹ واقعی قبل از وقت تھی اس کا جواب شیر افگن نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت میں دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل نہیں بلکہ حکومتی پالیسی ہے جس کی وجہ سے اسے چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ ’یہ میرا حق تھا کہ میں اسے کے خلاف آواز اٹھاؤں اور وہی میں نے کیا۔ اب میں دوستوں کے مشورے سے غور کروں گا کہ آیا اسے سپرئم کورٹ میں بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے کہ نہیں۔’

اس بل کے سامنے آنے کی بعد سے اس بارے میں مختلف طبقہ فکر اپنے تحفضات کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت اب بھی اسے کسی نہ کسی شکل میں اسمبلی سے منظور کروانے کی خواہاں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد