سرحد میں انعامی بانڈز پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے انعامی بانڈز کے نمبروں کے کاروبار کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جن افراد نے اس کاروبار میں پیسہ لگا رکھا ہے انہیں رقم نکالنے کے لئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ البتہ پشاور میں پرائز بانڈز کا کاروبار کرنے والوں نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے سرحد حکومت کے اس فیصلے کا اعلان سوموار کے روز پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کاروبار آج کل پشاور میں اپنے عروج پر ہے جس سے بڑی تعداد میں غریب عوام متاثر ہو رہے ہیں۔’اس بارے میں ہمیں بھی بے شمار شکایات موصول ہو رہی ہیں۔‘
انہوں نے یاد دلایا کہ اس کاروبار پر صدر پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے فوری بعد پابندی لگا دی گئی تھی مگر اس کے باوجود یہ دھندا خفیہ طریقوں سے دیگر صوبوں میں جاری رہا۔ ’لیکن صوبہ سرحد میں یہ سرعام کیا جاتا رہا جو کہ ایم ایم اے کی حکومت کے لئے ناقابل قبول ہے۔‘ دوسری جانب پشاور میں پانچ سو کے قریب دکانوں میں فروخت ہونے والے بانڈ کے نمبروں کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ کوئی غیرقانونی کاروبار نہیں کر رہے اور نہ اسے جوا قرار دیا جا سکتا ہے۔ قصہ خوانی بازار میں بانڈ نمبروں کا کاروبار کرنے والے بدر منیر درانی کا کہنا تھا، ’ہم تو غریب آدمی کو بھی اس بات کا موقعہ دیتے ہیں کے وہ بانڈ کا نمبر لے کر قسمت آزما سکے۔ کیا ایک غریب آدمی چالیس ہزار کا بانڈ خرید سکتا ہے؟‘ صوبائی حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس کاروبار میں ملوث افراد کو اعتماد میں لے کر نہیں کیا گیا ہے جس سے اس کے لئے مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ بانڈ ڈیلرز کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ بانڈ ہی بند کر دینے چاہیں اگر یہ غیر اسلامی کاروبار ہے تو۔ ’کیا حکومت لوگوں کو آٹھ سو ارب روپے واپس کر سکتی ہے جو اس نے یہ بانڈ جاری کر کے جمع کرائے ہیں؟‘ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ’یہ مرکزی حکومت نے جاری کیے ہیں لہذا وہی بانڈ بند کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||