’پاول کی آمد پر احتجاج کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما منور حسن نے سوموار کو اعلان کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کے دورے کے موقع پر اسلام آباد میں احتجاج کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ امریکی وزیر خارجہ سترہ مارچ کو اسلام آباد پہنچیں گے۔ جماعت کے رہنما نے کہا کہ اس احتجاج کے تفصیلی پروگرام کا اعلان بعد میں کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ عملی طور پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک تو ہوچکا ہے لیکن اب اس پر سی ٹی بی ٹی اور این پی ٹی کے معاہدوں پر دستخط کرانے کے لیے دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔ منور حسن نے آج لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کی جس میں انھوں نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ جس پراسرا انداز میں فرانس اور برطانیہ کے وزراۓ خارجہ اسلام آباد آۓ ہیں اسی طرح کولن پاول بھی اسلام آباد آرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دورے انتہائی تشویشناک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان دنوں پارلیمینٹ کا اجلاس ہورہا ہے اس لیے حکومت وزراۓ خارجہ کے ان دوروں پر پیدا ہونے والے خدشات اور وانا میں کئے جانے والے فوجی آپریشن پر پارلیمینٹ میں قوم کو اعتماد میں لے اور حکومت کہے کہ وہ سی ٹی بی ٹی اور این پی ٹی پر دستخط نہیں کرے گی۔ منور حسن نے کہا کہ جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تفتیش ہورہی تھی تو حکومت نے کہا کہ انھیں غیر مشروط معافی دی گئی ہے لیکن بعدمیں کولن پاول سے بات کرنے کے بعد کہا گیا کہ انھیں مشروط معافی دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جس طرح ایمٹی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف مقدمہ بنایا وہ دراصل پاکستان کے خلاف چارج شیٹ تھی جس کی بنیاد پر سیکیورٹی کونسل پاکستان پر پابندیاں عائد کرسکتی ہے اور اسے ایک بدمعاش ریاست قرار دیا جاسکتا ہے۔ منور حسن نے کوئٹہ میں یوم عاشورہ پر ہونے والی ہلاکتوں کے بارےمیں کہا کہ کوئٹہ میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں کا مقصد یہ ہے کہ جب امریکہ ایران پر حملہ کرے تو اسے واک اوور مل جاۓ اور پاکستان میں ایران کی حمایت ختم ہوچکی ہو جیسے عراق میں ہلاکتوں کامقصد یہ ہے کہ شیعہ سنی مسلمانوں کو لڑایا جاۓ۔ منور حسن نے الزام لگایا کہ ماضی میں جس طرح سکھ عسکریت پسندں کی فہرستیں ہندوستان کو دی گئی تھیں لگتا ہے کہ اسی طرح اب ہندوستان کو کشمیری عسکریت پسندوں کی فہرستیں دی گئی ہیں کیونکہ جب سے پاکستان نے ہندوستان کو یکطرفہ رعائتیں دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور مشرف اور واجپئی کی ملاقات ہوئی ہے کشمیر میں غلام رسول ڈار سمیت گیارہ سرکردہ مجاہدین کمانڈر ہلاک کیے جاچکے ہیں۔ مجلس عمل کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ قبائلی علاقہ وانا میں کی جانے والی فوجی کارروائی غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے اور مجلس عمل وانا میں اور اگر وہاں اجازت نہ ملی تو اس کی سرحد کے قریب قبائلیوں کے ساتھ مل کر احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||