| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی سائنسدانوں کی حمایت
متحدہ مجلسِ عمل کے سینکڑوں کارکنوں نے اتوار کو زیرحراست پاکستانی ایٹمی سائنسدانوں کے حق میں مظاہرہ کیا۔ ان سائنسدانوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ذاتی فائدے کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی ایران کو منتقل کی۔ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے وسط میں جمع ہونے والے ان کارکنوں کے پاس میگا فون تھے اور انہوں اپنے مظاہرے سے سڑک پر آمد و رفت معطل کر دی۔ ان مظاہرین نے جو پرچم اٹھا رکھے تھے ان پر یہ نعرے درج تھے ’قومی ہیروز کے خلاف دہشت گردی بند کرو‘ اور ’ایٹمی طاقت نے پاکستان کو بچایا‘۔ اس مظاہرے کے دوران خطاب کرتے ہوئے مقررین نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ امریکہ سمیت غیر ملکوں کے دباؤ میں آ کر اپنے سائنسدانوں پر الزامات لگا رہے ہیں اور اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ان سائنسدانوں کی بدولت نہ صرف مسلمانوں کو پہلی بار ایٹمی صلاحیت حاصل ہوئی بلکہ پاکستان اپنے روایتی حریف بھارت کے جواب میں طاقت کے توازن کو برابر کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔ متحدہ مجلسِ عمل، ایم ایم اے کے رہنما قاضی حسین احمد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایٹمی سائنسدانوں کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو ہم کسی قیمت پر تسلیم نہیں کریں گے۔ ان سائنسانوں نے یہ ایٹمی ہتھیار ہمارے لیے بنائے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بھارت نے کبھی ہمیں چھونے کی ہمت نہیں کی۔‘ کہا جاتا ہے کے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے ایٹمی توانائی سے ایران کے اعتراف کے بعد خان لیبارٹریز سے تعلق رکھنے والے آٹھ سائنسدانوں اور منتظمین سے ٹیکنالوجی کی ایران کو منتقلی کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ خان لیبارٹریز پاکستان کا وہ ادارہ ہے جس کا نام ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر قدیر خان کے پر رکھا گیا ہے۔ پاکستان حکومتی سطح پر اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس نے ایران، لیبیا یا کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی ہے تاہم اس کے ساتھ ہی اس کا کہنا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ لوگوں نے انفرادی یا ذاتی سطح پر ایسا کیا ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||