| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی ٹیکنالوجی: منتقلی کے شواہد
پاکستان میں دفاعی امور کے تجزیہ کار کامران خان کا کہنا ہے کہ نومبر میں اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی ای اے ای نے پاکستانی سائنسدانوں کی جانب سے ایران کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے بارے میں جو شواہد فراہم کیے تھے، حالیہ پوچھ گچھ کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسا ہوا ہے۔ وہ بی بی سی اردو سروس سے گفتگو کر رہے تھے۔ بقول کامران خان بعض سائنسدانوں نے اپنے ضمیر کا سودا کیا ہے۔ اور ذاتی مفاد اور پیسے کی لالچ میں ٹیکنالوجی منتقل کی۔ تاہم ڈاکٹر اے ایچ نیّر نے خیال ظاہر کیا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ’ضمیر کا سودا خود کیا گیا ہے یا حکام بالا کے حکم کی تعمیل میں ایسا کیا گیا ہے۔‘ کیونکہ بقول ان کے پاکستان کے جوہری پروگرام کا کمانڈ اور کنٹرول ہمیشہ سے فوج کے ہاتھوں میں رہا ہے۔ کامران خان کا کہنا تھا کہ بہرحال اس بات کے ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ کچھ سائنسدانوں نے اپنے طور پر ایسا کیا ہے اور ان کی اطلاعات کے مطابق حکومت کو یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ اس سلسلے میں رقومات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر نیّر کی اس بات پر کہ جوہری تنصیبات کڑے پہرے میں رہتی ہیں، کامران خان کا کہنا تھا کہ سن ستاسی میں ایران اور پاکستان کے مابین ایک غیر اعلانیہ سمجھوتہ ہوا تھا جس کی رو سے پرامن مقاصد کے لئے پاکستان کو ایران کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنا تھی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس وقت مکمن ہے کہ ایسا کیا گیا ہو۔ کامران نے یہ بھی دعوی کیا کہ جنرل اسلم بیگ ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حق میں تھے اور ہو سکتا ہے کہ جب ان تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگا تو انہیں بھی شامل تفتیش کر لیا جائے۔ اس سے قبل صدر جنرل پرویز مشرف نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں امریکی ٹیلی ویژن سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ بعض پاکستانی سائنسدانوں نے ذاتی مفاد کی خاطر جوہری ٹیکنالوجی فروخت ہے۔ تاہم اس میں حکومت ملوث نہیں۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی ای اے ای کے سربراہ محمد البرداعی نے کہا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق کچھ افراد اس میں ملوث تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||