BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زیرِ حراست گیارہ میں سے تین رہا

سائسندان

حکومت نے بدھ کو خان ریسرچ لیباٹری کہوٹہ میں کام کرنے والے جن گیارہ لوگوں کو حراست میں لیا تھا، ان میں سے تین کو رہا کر دیا ہے۔

وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نےصحافیوں کو تین رہا ہونے والوں میں سے دو کے نام بتاتے ہوئے کہا کہ ظفر حسین اور محمد زبیر کو رہا کر دیا ہے جبکہ تیسرے رہا ہونے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے ۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ کے آر ایل میں کام کرنے والے لوگوں کے خلاف انٹرنیشل اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے نومبر میں ایک خط موصول ہونے کے بعد انکوئری شروع کی گئی تھی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ ان میں سے کسی شخص نے بھی ایٹمی ٹیکنالوجی ملک سے باہر منتقل کی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو رہی اور یہ بات غلط ہے کہ کے آر ایل ہمیشہ سے پاکستان آرمی کی تحویل میں ہے بلکہ حقیت یہ ہے کہ یہ ادارہ پاکستان آرمی کی تحویل میں پچھلے چند سال سے ہے اور اس کے کچھ اہلکار " متعلق االعنان" لوگوں کی طرح اس ادارے کو چلا رہے تھے۔

شیخ رشید نے کہا کہ پہلے ’ڈیبریفنگ سیشن‘ میں جن لوگوں کو بلایا گیا ان میں سے سوائے محمد فارو‍ق کے باقی سب کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ اپنے کام پر واپس جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے ’ڈیبریفنگ سیشن‘ میں بلائے گئے لوگوں سے سوال و جواب کا سلسلہ ایک ہفتہ کے اندر مکمل ہو جائے گا۔ تیسرا ’ڈیبریفنگ سیشن‘ نہیں ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ پاکستان کا کیس مضبوط کرنے کی کوشش ہے اور کوئی شخص پاکستان سے بڑا نہیں-

ادھر حراست میں لیے گئے لوگوں نے قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے اور ان میں سے چھ نے بدھ کے دن لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں حبس بےجا کی درخواست دائر کی ہے جس کی پہلی سماعت بدھ کو ہی ہوئی اور عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنا جواب تئیس جنوری تک پیش کرے۔ کے آر ایل کے دو ملازم ، محمد فارو‍ق اور ميجر (ریٹائرڈ) اسلام الحق پہلے ہی عدالت میں جا چکے ہیں۔ تمام درخواستوں کی سماعت جمعہ یعنی تئیس جنوری کو ہوگی۔

جن لوگوں نے بدھ کو عدالت سے رجو‏ع کیا ان میں برگیڈیئر سجاول، سابق ڈائریکٹر جنرل سروسز ڈویژن کے آر ایل ڈاکٹر عبدلمجید، موجودہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ فزکس ڈیپارٹمنٹ؛ نسیم الدین ، سربراہ میزائل مینوفیکچرنگ ڈویژن ڈاکٹر منصور احمد، سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس برگیڈیر محمد اقبال تاجور، سابق ڈائریکٹر جنرل سیکیورٹی کہوٹہ ڈاکٹر نذیر احمد، موجودہ چیف انجینیئر میٹلرجک ڈیپارٹمنٹ کہوٹہ بھی شامل ہیں۔

ان تمام لوگوں نے اپنے وکیل بیرسٹر طارق کھوکھر کے ذریعے دائر کردہ حبس بےجا کی درخواست میں کہا کہ کے آر ایل ایک ایسے نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے جس میں کسی ایک شخص یا ادارے کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائی میں ملوث ہو سکے جس طرح کا الزام ان پر لگایا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد