BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 April, 2004, 20:00 GMT 01:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ فوجی ایک بھی بہت ہوتا ہے‘
ہراج
رضا حیات ہراج جو پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ سلامتی کونسل کا قیام پاکستان کی سیاست میں فوجی مداخلت کا دروازہ بند کر دے گی
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعہ کو متنازع قومی سلامتی کونسل کے قیام کا قانون منظوری کے لیے پیش کر دیاگیا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر رضا ہراج نے بی بی سی کو ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جانے والا مسودۂ قانون بنیادی طور پر کونسل کے وجود، اس کی ہیئت ترکیبی، ساخت اور طریقۂ کار کا احاطہ کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مسودۂ قانون ایک ایسے ادارے کا قیام تجویز کرتا ہے جو تیرہ افراد پر مشتمل ہو گا اور ملک کی سلامتی، دفاع، خودمختاری اور جب کبھی کسی بحران کی صورتِ حال پیدا ہو، تو اس نکلنے کی راہ تجویز کرے گا۔

مذاکرے کی صورت میں نشر کیے جانے والے اس پروگرام میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین ( پی پی پی پی ) کے اعتزاز احسن اور متحدہ مجلسِ عمل ( ایم ایم اے ) کے قاضی حسین احمد نے بھی حصہ لیا۔

قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ ایل ایف او پر مذاکرات کے دوران انہوں نے حکومت پر واضح کر دیا تھا کہ وہ اس ادارے کو خلاف آئین تصور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سلامتی کونسل کے قیائم سے سیاست میں فوج کی مداخلت کی راہ ہموار ہو جائے گی اسی وجہ سے وہ اس کی حمایت نہیں کریں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اس اداراے کے بارے میں حکومت کی بد نیتی کا اظہار اس بات سے ہو جاتا ہے کہ اس مسودۂ قانون کا اسمبلی میں پیش کرنے والی کمیٹی پی پی پی پی کی طرف سے وہ اور ایک اور خاتون بھی رکن تھی لیکن حکومت نے ان کو اس بات کی اطلاع تک نہیں دی کہ اس مسودۂ قانون کو اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے کوئی اجلاس ہو رہا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر رضا ہراج نے اعتزاز احسن کے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف اطلاع دی گئی تھی بلکہ جب اجلاس ہو رہا تھا تو پی پی پی پی کے ارکان لابی میں موجود تھے لیکن وہ جان بوجھ کر اجلاس میں نہیں آئے۔

قاضی
قاضی حسین احمد کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہی سیاست میں فوج کی مداخلت کے مخالف رہے ہیں اور سلامتی کونسل میں چار فوجی ہونگے جب کہ فوجی تو ایک بھی بہت ہوتا ہے

تاہم ہراج نے قاضی حسین احمد کی بات کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو باقاعدہ آئینی ادارہ بنانے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے پاس نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ بل جنوری میں پیش کیے جانے کی بجائے اپریل کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جا رہا ہے۔

تاہم رضا ہراج نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ اس کونسل کے قیام سےسیاست میں فوج کی مداخلت کا مستقل دروازہ کھل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کونسل میں کُل سترہ ارکان ہوں گے جن میں صرف چار فوجی ہوں گے۔

ہراج کے مطابق کونسل میں صدر، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ،
سپیکر قومی اسمبلی، قائدِ حزبِ اختلاف، اور چاروں وزرائے اعلیٰ اور دیگر بھی شامل ہوں گے اور اس کا کردار ہی آئندہ فوج کی مداخلت کا دروازہ بند کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر سلامتی کونسل ایک مشاورتی ادارہ ہو گا اور بحران کی صورت میں نکلنے کی راہ تجویز کرے گا۔

کونسل
خدشہ ہے کہ سلامتی کوسل کے قیام سے پارلیمان کی بالا دستی خطرے میں پڑ جائے گی

تاہم قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ پہلے بھی اس کونسل کے قیام کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اب بھی اس کی مخالفت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کونسل میں صرف چار فوجی ہونگے، اور ہم کہتے کہ فوجی تو ایک ہی بہت ہوتا ہے۔ یہ تو چار ہیں اور وہ بھی بری، بحری، اور فضائی فوج کے سربراہ ہی نہیں جوائینٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین بھی۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی کے پاس بندوق، پستول، بم، ہوائی جہاز اور سب کچھ ہوتا ہے جب کہ سیاست دان نہتے، وہ تو ایک فوجی کی وردی تک نہیں اتروا سکتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد