’حق مانگ رہے ہیں بھیک نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحدکے وزیر مالیات سراج الحق نے اعلان کیا ہے کہ اگرملک میں ہائیڈل بجلی سے ہونے والے سالانہ منافع میں صوبہ سرحد کا حصہ چھ ارب روپے سے بڑھا کر اٹھارہ ارب روپے نہیں کیا گیا اور اس مد کی بقایاجات فی الفور ادا نہیں کئےگئے تو سرحد حکومت قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی ) ایوارڈ پر دستخط نہیں کرے گی اور تمام جماعتیں مشترکہ جدوجہد کریں گی۔ یہ بیان انہوں نے پیر کے روز اسلام آباد میں واقع این ڈبلیو ایف پی ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس میں، جسے وہ سیاسی جرگہ کہتے ہیں‘ کئے گئے فیصلے کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے دیا ۔ ایوان بالا سینٹ قومی و سرحد کی صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل یہ سیاسی جرگہ صوبہ سرحد کے حقوق کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے قائم گیا تھا۔ اس اجلاس کی صدارت صوبے کے حکمران اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر پروفیسر خورشید نےکی۔ اجلاس میں صوبہ سرحد کے وزیراعلٰی اکرم درانی بھی خصوصی دعوت پر شریک ہوئے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سینٹر فرحت اللہ بابر عوامی نیشنل پارٹی کے سینٹر الیاس بلور، آزاد سینٹر اعظم خان سواتی کے علاوہ ایم ایم اے کے ارکان پارلیمنٹ بھی شریک ہوئے۔ سراج الحق نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے سینٹر مہتاب عباسی ذاتی وجوہ اور مسلم لیگ (ق) کی فوزیہ بیگم صدر جنرل مشرف کے صوبہ سرحد کے دورے کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکے۔ سرحد کے وزیر مالیات نے مزید بتایا کہ اے جی این عباسی فارمولہ کے تحت انکے صوبے کو سالانہ ہائیڈل بجلی کے منافع سے 18 ارب روپے دینے کا فیصلہ ہوا تھالیکن 1996ء میں منافع کی رقم 6 ارب سالانہ کردی گئی جو کہ صوبے سے زیادتی ہےـ انہوں نے دعوٰی کیا کہ سرحد حکومت کے واپڈا کی جانب 345 ارب روپے کے بقایاجات ہیں ۔ آئین پاکستان کے مطابق صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کی تقسیم کیلئے ہر پانچ سال کے متعلق قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل ہوتی ہے اور یہ کمیشن باہمی مشاورت سے اندازہ لگاتی ہے کہ کس صوبے کو کتنا حصہ ملنا ہےـ تاہم ماضی میں بننے والے کمیشنز نے جو بھی اعداد و شمار طے کئے وہ درست ثابث نہیں ہوئے۔ جمالی حکومت نے رواں ماہ میں قومی مالیاتی کمیشن کی آئندہ پانچ برس کیلئے صوبوں اور وفاق میں وسائل کی تقسیم کا فارمولہ طے کرکے روپوٹ مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا اور این ایف سی کی تشکیل کردہ کمیشن کی سفارشات اب جبکہ حتمی مراحل میں ہیں تو سرحد حکومت نے اس پر دستخط مشروط کردی ہیں۔ سراج الحق کے بقول کہ صوبے کے حقوق کیلئے بنائے گئے اس جرگے میں یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اگر واپڈا سے وفاقی حکومت نے بقایاجات نہیں دلائے تو سرحد حکومت دیگر جماعتوں سے مل کر صوبائی حقوق کیلئے جدوجہد کرے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ بقایاجات کی ادائیگی کا معاملہ این ایف سی کے اجلاس میں سرحد حکومت نے اٹھایا تھا لیکن وفاقی وزیر مالیات شوکت عزیز نے کہا کہ اس معاملے کا این ایف سی کمیشن سے تعلق نہیں اور انہوں نے معاملہ حل کرنے کیلئے ثالثی کمیشن بنایا۔ سراج الحق نے کہا کہ انکی حکومت ثالثی کمیش کو نہیں مانتی کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ کمیشن میں فریقین کے نمائندے ہونے چاہیں وفاق کے نہیں۔ سراج الحق نے بتایا کہ سرحد اسمبلی بھی یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ بقایاجات کی ادائگی تک این ایف سی پر دستخط نہیں کئے جائیں گےـ سراج الحق نے اس مسئلے پر صوبے کے تمام ضلعی ناظمین کا اجلاس بلانے کا بھی اعلان کیا تاہم انہوں نے تاریخ نہیں بتائی۔ فرحت اللہ بابر اور اعظم خان سواتی پریس کانفرنس کے موقع پر الیاس بلور نے کہا کہ وہ حق مانگتے ہیں جتنا ان کا حق ہے وہ دیا جائے وہ بھیک نہیں مانگ رہےـ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انکو اپنے صوبے کے حقوق نہیں ملے وہ مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||