BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 March, 2004, 03:27 GMT 08:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قرض اور تعلیم

قرض اور تعلیم
ہر چیز کے لئے قرض ملے گا، تعلیم کے لئے نہیں
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جس کی اندرونی اور بیرونی معیشت کا انحصار قرضوں پر ہے، آپ کو ہر کام کے لۓ قرض مل سکتا ہے لیکن اگر نہیں مل سکتا تو تعلیم کے لئے۔

پاکستان کے چند ایک تعلیمی ادارے چھوڑ کر کہ وہ بنے ہی خواص کے لئے ہیں اور عوام وہاں داخلہ لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، دیگر سرکاری تعلیمی اداروں میں ماہانہ فیس تین ہزار روپے تک ہو سکتی ہے جبکہ سیلف فنانس کی نشستوں پر یہ فیس چھ ہزار روپے تک ہے۔

لیکن کچھ سرکاری ادارے ایسے بھی ہیں جن کی ماہانہ فیس بارہ ہزار روپے یا زیادہ ہے۔ یہاں ایسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں جن کی مانگ زیادہ ہے، مثلاً ملٹی میڈیا اور آئی ٹی وغیرہ۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم کی یہ قیمت ادا کرنے کرنے سے قاصر ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر براۓ سن2001۔2002 میں طالبعلموں کے لۓ بلا سود تعلیمی قرضوں کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں نیشنل بنک، حبیب بنک، یونائٹڈ بنک، مسلم کمرشل بنک اور الائیڈ بنک آف پاکستان کو ہدایات جاری کی گئیں کہ پاکستان کے جملہ میڈیکل کالجوں اور انجنئیرنگ، زرعی اور دیگر یونیورسٹیوں کے چیدہ چیدہ شعبوں کے ان مستحق طلبا کو جن کا تعلیمی ریکارڈ اچھا ہو، تعلیمی قرض فراہم کۓ جائیں۔

اگرچہ ملک کے بیشتر غیر سرکاری اورسرکاری تعلیمی اداروں کے طالبعلم اس سکیم سے مستفید نہیں ہو سکتے، لیکن جن چند ایک کو فائدہ ہو سکتا ہے انہیں بھی نہیں ہو پا رہا ہے۔

بھوت سکیم
 لاھور شہر میں مذکورہ بنکوں کی کسی بھی بڑی شاخ میں جا کر اگر تعلیمی قرض کی بات کی جاۓ تو عملے کا کوئی فرد بتائے گا کہ ایسی کسی سکیم کا وجود ہی نہیں ہے

دراصل ان بنکوں کی صرف چند شاخیں ہی قرض کی فراہمی سے متعلق ہیں اور عام لوگ اس حقیقت سے قطعی نا آشنا ہیں۔ لیکن اگر بات محض عوام الناس کی ہو تو حل آسان ہے، یہاں تو بینکر کو بھی نہیں پتا کہ ایسی کسی سکیم کا وجود بھی ہے کجا وہ عوام کو بتائیں کہ فارم کہاں سے دستیاب ہیں اور کون کون سی شاخیں یہ درخواستیں لینے کی مجاز ہیں۔

مثلاً لاھور شہر میں مذکورہ بنکوں کی کسی بھی بڑی شاخ میں جا کر اگر تعلیمی قرض کی بات کی جاۓ تو عملے کا کوئی فرد بتائے گا کہ ایسی کسی سکیم کا وجود ہی نہیں ہے۔

اس رویے سے مستثنا صرف نیشنل بنک ہے اور وہ بھی صرف کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، انجنئیرنگ یونیورسٹی لاھور اور پنجاب یونیورسٹی کے چند شعبوں کو قرض کی سہولت دیتا ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ قرض جو ابھی تک نیشنل بنک نے دیا ہے اس کی مالیت چھتیس ہزار روپے ہے جو میڈیکل کی ایک طالبہ کی فیس کی مد میں ادا کی گئی۔

ایک اور مالیاتی ادارہ Picic ہے جو تعلیمی قرض فراہم کر رہا ہے۔ ان کے طریقہ کار کے مطابق تعلیمی ادارے کی فیس بنک ادا کرتا ہے اور طالب علم وہ رقم اسی ماہ سے برابر اقساط میں بنک کو واپس کرنا شروع کرتا ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں بنک اگلی سہ ماہی کی فیس ادا نہیں کرے گا۔ ان سے قرض صرف ان تعلیمی اداروں کے طالبعلم لے سکتے ہیں جو بنک کے پینل پر ہیں۔

سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک نے تعلیمی قرض کا ایک انوکھا نظام متعارف کروایا ہے۔ وہ آپ کو تو نہیں لیکن آپ کی آئیندہ نسل کو قرض دینے کو تیار ہیں۔ مطلب یہ کہ ان کی سکیم کے مطابق آپ اپنے پانچ سے دس سال تک کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے بنک کے ساتھ کمیٹی ڈال لیں جو دس یا پندرہ سال کے بعد لاکھوں روپوں کی صورت میں آپ کو ادا کر دی جاۓ گی۔

سب سے بڑا روپیہ
 بنکوں کا موقف یہ ہے ہےکہ چونکہ ایسے قرض عام طور پر واپس نہیں کئے جاتے اور سٹیٹ بنک بھی اس ضمن میں کوئی یقین دہانی نہیں کرواتا لہذا وہ اپنی رقم کیوں ڈبوئیں؟

بنک جو کھاتے داروں کے پیسے سے اربوں کا نفع کماتے ہیں، آخر انہی کھاتے داروں کے بچوں کو تعلیمی قرض کیوں نہیں دے سکتے؟ عسکری بنک کے نمائندے کا کہنا ہے کہ تعلیمی قرض ابھی بنک کی ترجیحات میں نہیں ہے۔ جبکہ دیگر شیڈیولڈ بنکوں کا اس ضمن میں ایک ہی جواب ہےکہ چونکہ ایسے قرض عام طور پر واپس نہیں کئے جاتے اور سٹیٹ بنک بھی اس ضمن میں کوئی یقین دہانی نہیں کرواتا لہذا وہ اپنی رقم کیوں ڈبوئیں؟

غیر ملکی بینکوں کا موقف یہ ہے کہ بالفرض محال پاکستان کا سٹیٹ بنک دو یا تین سالوں بعد ڈوبی ہوئی رقم لوٹا بھی دے تو بھی انہیں نقصان ہو گا۔

لہٰذا جان لیجئے کہ اگر آپ کے پاس لاکھوں روپے ہیں تو آپ ان بنکوں سے کروڑوں کا قرض لے سکتے ہیں لیکن اگر آپ کے پاس صرف اعلیٰ تعلیم کا خواب ہے تو اس کے عوض آپ کو کوئی قرض تو کیا تسلی بھی نہیں دے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد