BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی رپورٹرز ڈائری

پاکستان میں اب تک زلزلے سے اکیس ہزار کے قریب افراد کی اموات کی سرکاری طور پر تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تیس سے چالیس ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔

زلزلے سے متاثرہ علاقے میں موجود بی بی سی کے نمائندوں کا آنکھوں دیکھا حال

مبشر زیدی، مارگلہ ٹاورز اسلام آباد: 9:45 GMT

ظفر عباس، مظفرآباد: 8:30 GMT
مزید ہیلی کاپٹر مظفر آباد میں امداد لا رہے ہیں اور شدید زخمی افراد کو راولپنڈی لے جا رہے ہیں۔ یہ کام صبح سے جاری ہے۔ شہر میں حالات نہایت مخدوش ہیں۔ ہر دوسرا گھر تباہ ہو چکا ہے یا اسے ناقابلِ رہائش قرار دے دیا گیا ہے۔ لوگوں نے دو راتیں باہر گزاری ہیں۔

امدادی کام میں تیزی آئی ہے اور میں نے دو غیر ملکی امدادی ٹیموں کو پاک فوج کے ہمراہ کام کرتے دیکھا ہے۔ ایک ٹیم ترکی کی ہے اور دوسری کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ برطانوی ٹیم نے صبح ملبے سے ایک بارہ سالہ لڑکے کو زندہ نکال لیا۔ اس سے امید ہو چلی ہے کہ مزید افراد کو بھی بچایا جا سکتا ہے۔ امدادی ٹیم اس سکول بھی گئی جہاں 500 بچے کنکریٹ کے نیچے دفن ہو گئے ہیں لیکن وہاں زندگی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ یہاں ماحول میں افراتفری، غصہ اور اشتعال پایا جاتا ہے اور عوام کو خوراک، پانی اور فوری طبّی امداد کی ضرورت ہے۔

لیز ڈوسٹ، اسلام آباد: 8:10 GMT
مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیس ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بیالیس ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ تاہم امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد دوگنی ہو سکتی ہے۔

زلزلے کے دو دن بعد بھی اس تباہی کا اندازہ لگنا مشکل ہے۔ اسلام آباد میں لاشوں کی گنتی جاری ہے۔ پچھلے چند گھنٹوں میں امدادی ٹیموں نے دو مزید لاشیں نکالی ہیں اور جائے حادثہ کے آس پاس فکرمند لوگ اپنے پیاروں کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں۔

شمالی پاکستان میں حالات اور بھی بدتر ہیں۔ اس علاقے میں چالیس لاکھ افراد رہتے ہیں اور وہاں گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں فوج کسی بھی طریقے سے پہنچ نہیں سکی ہے۔

اینڈریو نارتھ، بالاکوٹ: 6:15 GMT
یہاں پر تباہی کے مناظر ہیں۔ بالاکوٹ کے وسط میں 80 سے 90 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ میں لڑکوں کے ایک سکول کی باقیات کے پاس موجود ہوں۔ اور یہاں تمام صبح لوگ ملبے سے زندہ بچنے والوں کی تلاش کے لیے ہتھوڑوں اور چھینیوں کی مدد سے عمارتیں توڑ رہے ہیں۔

بالا کوٹ میں اسلام آباد کی مانند کوئی سپیشلسٹ امدادی ٹیم نہیں ہے۔ یہاں صرف مقامی افراد ہی موجود ہیں اور تمام صبح ملبے سے لاشیں نکالی جاتی رہی ہیں۔ علاقے میں بدبو پھیل رہی ہے اور یہ خیال عام ہے ملبے میں ہزاروں افراد دفن ہیں۔

سڑک مٹی کے تودے گرنےسے بند ہے اور پاکستان فوج کی ایک ٹیم سڑک صاف کرنے میں مصروف ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بالاکوٹ کے مزدیک سڑک اتنی تباہ ہو چکی ہے کہ گاڑیوں کا یہاں پہنچنا بہت مشکل ہے اور یہاں ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ کچھ ہیلی کاپٹر یہاں امدادی سامان لا رہے ہیں لیکن وہ بھاری مشینری کی ترسیل سے قاصر ہیں۔

عامر احمد خان، مظفر آباد: 6:00 GMT
میں تھک چکا ہوں، میرا تمام جسم درد کر رہا ہے اور میں بھیگ چکا ہوں۔ لیکن اب بھی اس زلزلے سے متاثر ہونے والے افراد کی نسبت میں بہترین حالت میں ہوں۔

میں جب بھی باہر نکلتا ہوں تو مجھے پہلا احساس یہ ہوتا ہے کہ عوام مشتعل ہو رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اشتعال دن بھر جاری رہے گا۔ لوگ ہر چیز سے اور ہر کسی سے ناراض ہیں۔ کل تک بہت سے ایسے لوگ تھے جنہیں یہ امید تھی کہ حکام جلد ان کی مدد کو آئیں گے۔ آج ان کی آنکھوں میں بھی صرف غصہ ہے۔ ان آنکھوں میں نفرت ہے۔ فطرت کے خلاف، پاکستان کے خلاف اور اپنے اوپر بیتنے والی مصیبت کے خلاف۔

بچنے والے افراد یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا وہ خوش قسمت ہیں؟ زیادہ تر افراد نے اپنی گاڑیوں میں یا باہر رات گزاری ہے۔ کل تک جو بچے پرجوش تھے آج تھکے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ چند افراد ہی رات کو سو سکے ہیں۔ رات دو بج کر تیس منٹ پر زلزلے کا ایک بڑا جھٹکا آیا اور چار بجے اس سے بھی بڑا۔

جن لوگوں کا پاکستان میں اپنے عزیزوں سے رابطہ ہوا ہے۔ وہ میڈیا پر چلنے والی امدادی کارروائیوں کی خبروں کے بارے میں جان کر بھی غصے میں ہیں۔ ایک شخص اتنا غصے میں تھا کہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ’ آپ یہاں ہیں۔ آپ نے سب کچھ دیکھا ہے۔ امدادی کارروائیوں کہاں ہیں؟‘۔

مظفر آباد میں صرف ایک بلڈوزر ملبہ ہٹانے کا کام کر رہا ہے۔ سڑکوں پر بدبو پھیل رہی ہے اور جو ملبے کے نیچے ہے اس کے بارے میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔

ظفر عباس، مظفرآباد: 5:30GMT

زلزلے کے تیسرے دن مظفر آباد جانے والا ایک راستہ کھول دیا گیا ہے۔ اس راستے کے کھلنے کے بعد امدادی سامان کے ٹرک علاقے میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ علاقے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہر دوسرے گھر پر موت نے دستک دی ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مزید کتنے لوگ ملبے تلے موجود ہیں۔ علاقے میں ایک بھی عمارت ایسی نہیں جسے زلزلے نے نقصان نہ پہنچایا ہو۔ زیادہ تر عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ان کے نیچے سینکڑوں افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ علاقے کی قریباً تمام آبادی نے گزشتہ دو راتیں کھلے آسمان تلے گزاری ہیں۔ مقامی حکام بے بس دکھائی دیتے ہیں اور زیادہ تر جگہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ دو ہزار سے زیادہ لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ اور کتنی لاشیں نکلیں گی۔ علاقے کے لوگوں کا مزاج اب غم سے غصے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ فوج نے شہر کے سٹیڈیم میں ایک عارضی ہسپتال قائم کر دیا ہے جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلام آباد بھیجا جار ہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات میں بہتری کی امید ہے کیونکہ امداد پہنچنا شروع ہوگئی ہے لیکن مظفر آباد کے باسیوں کے لیے یہ وقت کے خلاف ایک دوڑ ہے کیونکہ امدادی کارروائیوں میں مزید دیر کی صورت میں ملبے میں دبے افراد کو بچانے کی امید ختم ہو جائے گی۔

مائیک ولرج، اسلام آباد: 5:10 GMT
پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیرمیں زلزلے کے تیسرے دن اندوہناک مناظر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان مناظر میں وہ لوگ بھی ہیں جو ملبے میں ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں اور بے گور و کفن لاشیں بھی اور بے گھر ہو جانے والے افراد کی بڑی تعداد بھی۔ برطانیہ سمیت دنیا بھر سے پاکستان پہنچنے والی امدادی ٹیمیں اب اسی طرح شمالی علاقہ جات سے لوگوں کو ملبے سے نکالنے کا کام شروع کریں گی جیسے کہ انہوں نے اسلام آباد کی منہدم شدہ عمارت سے پھنس جانے والے افردا کو نکالا۔ لیکن ان ٹیموں کے سامنے اب ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ زیادہ تر تباہ شدہ علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ تاہم پاکستانی صدر پرویز مشرف کی جانب سے عالمی اپیل کے بعد اب امداد اور ہیلی کاپٹر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

اینڈریو نارتھ، بالاکوٹ: 4:42 GMT
میں ایک لڑکوں کے سکول کی باقیات دیکھ رہا ہوں۔ اس عمارت کی سبز رنگ کی لوہے کی چھت ملبے کے اوپر پڑی ہوئی ہے۔ مقامی افراد خالی ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ملبے سے لاشیں نکال رہے ہیں۔ میں نے ابھی ابھی دو لاشوں کو نکلتے دیکھا جبکہ یہاں قریب ہی بارہ مزید لاشیں نکال کر رکھی گئی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں زلزلے کے وقت کئی سو بچے موجود تھے۔ ان کا خیال ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ہلاک ہو چکے ہیں۔ فضا میں لاشوں کی بو رچی ہوئی ہے۔ یہ منظر اس قصبے میں عام ہے جہاں کم از کم اسّی فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ علاقے کا بازار مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ یہاں پاکستانی فوجی تو پہنچ چکے ہیں لیکن ان کے پاس ملبہ اٹھانے کے لیے نہ تو مشینری موجود ہے اور نہ ہی متاثرین کے لیے کوئی خیمے، خوراک یا پانی۔ یہاں پہنچنے کے دو ہی ذریعے ہیں یا تو ہیلی کاپٹر سے یا پھر پیدل کیونکہ زمینی راستہ مٹی کے تودے گرنے سے بند ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد