بی بی سی رپورٹرز ڈائری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اب تک زلزلے سے اکیس ہزار کے قریب افراد کی اموات کی سرکاری طور پر تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تیس سے چالیس ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں موجود بی بی سی کے نمائندوں کا آنکھوں دیکھا حال مبشر زیدی، مارگلہ ٹاورز اسلام آباد: 9:45 GMT ظفر عباس، مظفرآباد: 8:30 GMT امدادی کام میں تیزی آئی ہے اور میں نے دو غیر ملکی امدادی ٹیموں کو پاک فوج کے ہمراہ کام کرتے دیکھا ہے۔ ایک ٹیم ترکی کی ہے اور دوسری کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ برطانوی ٹیم نے صبح ملبے سے ایک بارہ سالہ لڑکے کو زندہ نکال لیا۔ اس سے امید ہو چلی ہے کہ مزید افراد کو بھی بچایا جا سکتا ہے۔ امدادی ٹیم اس سکول بھی گئی جہاں 500 بچے کنکریٹ کے نیچے دفن ہو گئے ہیں لیکن وہاں زندگی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ یہاں ماحول میں افراتفری، غصہ اور اشتعال پایا جاتا ہے اور عوام کو خوراک، پانی اور فوری طبّی امداد کی ضرورت ہے۔ لیز ڈوسٹ، اسلام آباد: 8:10 GMT زلزلے کے دو دن بعد بھی اس تباہی کا اندازہ لگنا مشکل ہے۔ اسلام آباد میں لاشوں کی گنتی جاری ہے۔ پچھلے چند گھنٹوں میں امدادی ٹیموں نے دو مزید لاشیں نکالی ہیں اور جائے حادثہ کے آس پاس فکرمند لوگ اپنے پیاروں کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں۔ شمالی پاکستان میں حالات اور بھی بدتر ہیں۔ اس علاقے میں چالیس لاکھ افراد رہتے ہیں اور وہاں گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں فوج کسی بھی طریقے سے پہنچ نہیں سکی ہے۔ اینڈریو نارتھ، بالاکوٹ: 6:15 GMT بالا کوٹ میں اسلام آباد کی مانند کوئی سپیشلسٹ امدادی ٹیم نہیں ہے۔ یہاں صرف مقامی افراد ہی موجود ہیں اور تمام صبح ملبے سے لاشیں نکالی جاتی رہی ہیں۔ علاقے میں بدبو پھیل رہی ہے اور یہ خیال عام ہے ملبے میں ہزاروں افراد دفن ہیں۔ سڑک مٹی کے تودے گرنےسے بند ہے اور پاکستان فوج کی ایک ٹیم سڑک صاف کرنے میں مصروف ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بالاکوٹ کے مزدیک سڑک اتنی تباہ ہو چکی ہے کہ گاڑیوں کا یہاں پہنچنا بہت مشکل ہے اور یہاں ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ کچھ ہیلی کاپٹر یہاں امدادی سامان لا رہے ہیں لیکن وہ بھاری مشینری کی ترسیل سے قاصر ہیں۔ عامر احمد خان، مظفر آباد: 6:00 GMT میں جب بھی باہر نکلتا ہوں تو مجھے پہلا احساس یہ ہوتا ہے کہ عوام مشتعل ہو رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اشتعال دن بھر جاری رہے گا۔ لوگ ہر چیز سے اور ہر کسی سے ناراض ہیں۔ کل تک بہت سے ایسے لوگ تھے جنہیں یہ امید تھی کہ حکام جلد ان کی مدد کو آئیں گے۔ آج ان کی آنکھوں میں بھی صرف غصہ ہے۔ ان آنکھوں میں نفرت ہے۔ فطرت کے خلاف، پاکستان کے خلاف اور اپنے اوپر بیتنے والی مصیبت کے خلاف۔ بچنے والے افراد یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا وہ خوش قسمت ہیں؟ زیادہ تر افراد نے اپنی گاڑیوں میں یا باہر رات گزاری ہے۔ کل تک جو بچے پرجوش تھے آج تھکے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ چند افراد ہی رات کو سو سکے ہیں۔ رات دو بج کر تیس منٹ پر زلزلے کا ایک بڑا جھٹکا آیا اور چار بجے اس سے بھی بڑا۔ جن لوگوں کا پاکستان میں اپنے عزیزوں سے رابطہ ہوا ہے۔ وہ میڈیا پر چلنے والی امدادی کارروائیوں کی خبروں کے بارے میں جان کر بھی غصے میں ہیں۔ ایک شخص اتنا غصے میں تھا کہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ’ آپ یہاں ہیں۔ آپ نے سب کچھ دیکھا ہے۔ امدادی کارروائیوں کہاں ہیں؟‘۔ مظفر آباد میں صرف ایک بلڈوزر ملبہ ہٹانے کا کام کر رہا ہے۔ سڑکوں پر بدبو پھیل رہی ہے اور جو ملبے کے نیچے ہے اس کے بارے میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ ظفر عباس، مظفرآباد: 5:30GMT زلزلے کے تیسرے دن مظفر آباد جانے والا ایک راستہ کھول دیا گیا ہے۔ اس راستے کے کھلنے کے بعد امدادی سامان کے ٹرک علاقے میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ علاقے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہر دوسرے گھر پر موت نے دستک دی ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مزید کتنے لوگ ملبے تلے موجود ہیں۔ علاقے میں ایک بھی عمارت ایسی نہیں جسے زلزلے نے نقصان نہ پہنچایا ہو۔ زیادہ تر عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ان کے نیچے سینکڑوں افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ علاقے کی قریباً تمام آبادی نے گزشتہ دو راتیں کھلے آسمان تلے گزاری ہیں۔ مقامی حکام بے بس دکھائی دیتے ہیں اور زیادہ تر جگہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ دو ہزار سے زیادہ لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ اور کتنی لاشیں نکلیں گی۔ علاقے کے لوگوں کا مزاج اب غم سے غصے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ فوج نے شہر کے سٹیڈیم میں ایک عارضی ہسپتال قائم کر دیا ہے جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلام آباد بھیجا جار ہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات میں بہتری کی امید ہے کیونکہ امداد پہنچنا شروع ہوگئی ہے لیکن مظفر آباد کے باسیوں کے لیے یہ وقت کے خلاف ایک دوڑ ہے کیونکہ امدادی کارروائیوں میں مزید دیر کی صورت میں ملبے میں دبے افراد کو بچانے کی امید ختم ہو جائے گی۔ مائیک ولرج، اسلام آباد: 5:10 GMT اینڈریو نارتھ، بالاکوٹ: 4:42 GMT |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||