BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 October, 2005, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہر طرف کتابیں، دوپٹے اور جوتیاں

باغ
ہر شخص غم کی تصویر بنا ہوا ہے

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دیگر شہروں کی طرح ضلع باغ میں بھی بیشتر مکانات، مساجد اور دکانیں تباہ ہوچکی ہیں اور شہر کے پانچ تعلیمی اداروں سمیت کئی منہدم عمارتوں اور مکانوں کے ملبے تلے سینکڑوں لوگ دبے ہوئے ہیں۔

باغ کی مزید کہانیاں پڑھنے اور تصاویر دیکھنے کے لیےیہاں کلک کریں








منگل کی صبح کنٹرول لائن کے قریب واقع شہر باغ میں گرلز ڈگری کالج، گرلز ہائی سکول، سپرنگ فیلڈ سکول، پوسٹ گریجوئیٹ بوائز کالج اور بوائز پرائمری سکول کی زمین بوس عمارتوں میں ہر طرف تین دن سے ملبے تلے دبے طلبا اور طالبات کی لاشوں کی بو پھیلی ہوئی تھی۔

کوہالہ پل سے باغ شہر تک سڑک کے دونوں کناروں پر بیشتر مکانات اور دکانیں منہدم نظر آئیں اور زلزلے کی آفت سے بچے ہوئے مرد، خواتین اور بچے ملبے تلے اپنے پیاروں کی لاشین ڈھونڈتے نظر آئے۔

باغ شہر سے ایک سو میٹر پہلے ’باغ شہر میں خوش آمدید‘ ہے اور دائیں جانب ایک منہدم مکان تلے دو کاریں چپکی ہوئی نظر آئیں۔ اس مکان کے مالک عنایت اللہ نے بتایا کہ ان کا مکان تو تباہ ہوگیا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ہمیں وہاں جہاں مقامی شہری زمین بوس تین کمروں کا ملبہ ہاتھوں سے ہٹانے میں
نظر آئے وہیں پر پچیس کے قریب فوجی جوان بھی کام میں مصروف دکھائی دیے۔

قریب ہی سسکیاں لیتی تین بچیاں اپنی ماؤں کے ہمراہ کھڑی تھیں اور انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سو کے قریب بچیاں تین کلاسوں میں تھیں جس میں سے صرف پانچ بچیاں بچیں ہیں اور باقی ملبے تلے دبی ہیں۔

ہر طرف کتابیں، دوپٹے اور جوتیاں بکھری نظر آئیں۔

بغیر وردی سن گلاس لگائے ہوئے ایک شخص فوجی جوانوں کو تیزی سے کام کرنے کی ہدایات دے رہے تھے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کیا۔

جب وہاں موجود لوگوں نے کہا کہ یہ فوجی خالی ہاتھ آئے ہیں اور ملبہ نہیں ہٹا سکتے تو سادہ کپڑوں میں ملبوں افسر نے کہا کہ ان سے پوچھیں شہری انتطامیہ کہاں ہے ’فوج پھر بھی آئی تو ہے نہ‘۔

ان کی بات کاٹتے ہوئے ایک بزرگ بولے ’یہ (فوجی) دو گھنٹے قبل پہنچے ہیں اور وہ بھی خالی ہاتھ۔ یہ کچھ نہیں کرسکتے، مشینری کہاں ہے؟‘

ایک خاتون نے جو خود کو سری لنکا کی شہری بتا رہی تھیں اور باغ میں بیاہی ہوئی ہیں فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگ تین دن سے ملبہ ہٹا رہے ہیں لیکن ہاتھوں سے کیا ہوسکتا ہے۔

پوسٹ گریجوئیٹ بوائز کالج اور اس کے ہاسٹل کا کوئی کمرہ سلامت نہیں تھا۔ خاصی تعداد میں لوگ جمع تھے اور سب حکومت اور فوج پر اپنا غصہ نکال رہے تھے۔

جب ان سے پوچھا کہ آپ خود کیوں نہیں ملبہ ہٹاتے اور حکومتی کارروائی کے انتظار میں کیوں ہیں تو کسی نے بولا کہ وہ اس شہر کے نہیں ہیں صرف تباہی دیکھنے آئے ہیں تو کسی نے بولا کہ فوج کہتی ہے دور ہٹ جاؤ اور کسی نے کہا کہ انہوں نے دو روز کام کیا ہے اور اب لاشوں کی بو کی وجہ سے کام نہیں کرسکتے۔

اس کالج میں ہسپانیہ سے کچھ امدادی کارکن اپنے تربیتی کتوں کے ہمراہ امدادی کام میں مصروف تھےاور ان کی ٹیم کے ایک رکن نے کہا کہ ان کی ترجیع زندہ طلبا کو بچانا ہے۔

لیکن ان کے مطابق تاحال ان کے کتے کسی کے زندہ ہونے کی نشاندہی نہیں کرپائے۔

کالج کے گراؤنڈ کی طرف ایک فوجی کرین ملبہ ہٹانے میں مصروف تھی اور ایک کرنل کرسی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنا نام کرنل خاور بتایا اور کہا کہ امدادی کام کے لیے جدید آلات اور مشینری کی ضرورت ہے لیکن ان کے پاس وہ نہیں ہیں اور دستیاب وسائل سے وہ کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ یہاں زلزلے کے وقت گزشتہ سنیچر کی صبح کلاس ہورہی تھے اور کئی طلبا ملبے تلے ہیں۔ لیکن انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شاید کوئی بھی ملبے تلے نہ ہو۔

وہاں موجود لوگوں نے سامنے ایک لاش کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ اس لڑکے کی جیب سے کارڈ ملا ہے جس پر وحید نور لکھا ہے۔

پوسٹ گریجوئیٹ کالج سے ہوتے ہوئے بوائز پرائمری سکول پہنچے تو وہاں بھی حالت مختلف نہیں تھی۔ ہر طرف کتابیں، جوتے اور بستے بکھرے نظر آئے۔ البتہ سکول کے میدان میں دو نئے خیمے لگے نظر آئے اور قریب جانے پر ایک خاتون اپنی نوجوان بیٹیوں سمیت باہر آئیں اور بتایا کہ ان کے شوہر سکول کے چوکیدار ہیں اور انہیں یہ خیمے ڈپٹی کمشنر نے دیے ہیں۔

بازار سے گزر ہوا تو کوئی دکان سلامت نظر نہیں آئی۔ دائیں جانب جامع مسجد کا بڑا مینار تھا جس کا اوپری حصہ منہدم ہو چکا تھا۔ گرلز ہائی سکول لے آئے تو اس کی عمارت کی بھی اینٹ سے اینٹ بجی ہوئی تھی۔

گرلز سکول کے نیچے ایک مکان کے باسی اسماعیل میر نے بتایا کہ اس سکول میں انتالیس استانیاں پڑھاتی تھیں جن میں سے چار زندہ بچی ہیں اور باقی ’استانیاں، بیسیوں طالبات سمیت ملبے تلے دبی ہیں‘۔

گرلز ہائی سکول کے ساتھ نرسری اور کے جی کلاسز میں پڑھنے والے بچوں کا سپرنگ فیلڈ نامی سکول کی دو منزلہ عمارت بھی زمین بوس تھی اور کچھ انچائی پر شمیم بیگم کے ہمراہ تین خواتین اور دو بچیاں غم سے نڈھال ہوکر رو رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ہمارے بچوں کو زندہ نہیں بچا سکے تو خدا کے وسطے لاشین ہی نکال دیں تاکہ ہم انہیں دفنا سکیں۔

’سپرنگ فیلڈ‘ کی زمین بوس عمارت کی ’آر سی سی، چھت میں ڈھائی تین فٹ چوڑا سوراخ تھا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک نوجوان فخر زمان نے کہا کہ انہوں نے چار بچوں کی لاشیں نکالی ہیں لیکن اب بدبو اور مکھیاں اندر اتنی ہیں کہ جانے والا بیہوش ہوجاتا ہے‘۔

انہوں نے پاک فوج کے خلاف انتہائی سخت اور نازیبا الفاظ کہے اور کہا کہ انہیں شکوہ پاکستانی عوام سے ہے کہ تین دن تک ان کے لیے پانی تک نہیں بھیجا۔

باغ کی افسر کالونی کے رہائشی فخر زمان نے کہا کہ حکومت راستے بند ہونے کا جھوٹا عذر پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے ہم سے سوال کیا کہ اگر آپ پہنچ سکتے ہیں تو فوج اور حکومتی امداد کیوں نہیں پہنچ سکتی۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب واپسی پر دو درجن کے قریب فوجی اور سویلین گاڑیوں کا ایک قافلہ ملا جو امدادی اشیاء اور ملبہ ہٹانے والی مشینری لے کر باغ جا رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی شام تک باغ شہر میں ملبہ ہٹانے اور لاشین نکالنے کا زیادہ سے زیادہ کام مکمل کرنے کوشش کی جارہی۔

پانچ لاکھ آبادی والے ضلع باغ کے شہر کے علاوہ گرد و نواح کے گاؤں اور قصبوں کی حالت بھی شہر سے مختلف نہیں ہے۔ وہاں بھی سنکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے شہروں میں رہتے ہیں اور ان کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق بیرونی ممالک سے آنے والے افراد اپنے عزیز و اقارب کے لیے امدادی سامان بھی لا رہے ہیں۔

66’باغ‘ جو اجڑ گیا
ضلع باغ زلزلے کے بعد،کیمرے کے آنکھ سے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد