BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 October, 2005, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیمے، ماسک اور ہیلی کاپٹر چاہییں

زلزلے سے متاثرہ افراد میں امداد کی تقسیم
زلزلے سے متاثرہ افراد میں امداد کی تقسیم

مانسہرہ میں ایدھی سینٹر کے مطابق امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹروں، خیموں، ماسک اور عمارتیں کاٹنے کی مشینری چاہیے جبکہ لوگ زیادہ تر کپڑے اور رضائیاں لے کر آرہے ہیں۔

مانسہرہ سے بالاکوٹ جانے والی سڑک پر ملک بھر سے آنے والی زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی گاڑیوں کا اتنا ہجوم ہوگیا ہے کہ مانسہرہ سے بالاکوٹ تک کا پونے گھنٹہ کا راستہ چار سے پانچ گھنٹے میں طے ہورہا ہے۔ مانسہرہ سے ایک راستہ بالاکوٹ کی طرف اور دوسری جانب شاہراہ ریشم کے ذریعے بٹگرام اور کوہستان جاتا ہے۔ دونوں طرف زلزلہ سے شدید تباہی ہوئی ہے۔

 جو لوگ ملبہ کے نیچے سے لوگوں کو نہیں نکال سکتے وہ ان علاقوں میں امدادی کام کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں اس لیے ضرورت پھاوڑے چلا کر عمارتیں کاٹنے والوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے پرانے کپڑوں اور رضائیوں کے ڈھیر متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں اور یہ لنڈا بازار بن گیا ہے۔
رضاکار،شفیق

مانسہرہ میں ایدھی سینٹر کے انچارج عالم زیب نے بتایا کہ ملک بھر سے امدادی سامان لانے والی گاڑیوں کے ہجوم نے امدادی کام میں مزید رکاوٹ پیدا کردی ہے کیونکہ متاثرہ جگہوں تک جانا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

مانسہرہ ایدھی سینٹر کے اہلکار کے مطابق وہ اب تک مانسہرہ اور بالاکوٹ کے متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان کے ایک سو سے زیادہ ٹرک بھیج چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں تک گاڑیاں جاسکتی ہیں وہاں تک ضرورت سے زیادہ سامان پہنچ چکا ہے اور اب اس کا غلط استعمال شروع ہوگیا ہے۔ کمبل بالاکوٹ کے بازاروں میں فروخت ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

ایدھی سینٹر کے مطابق راستے میں لوگوں نے امدادی سامان کی گاڑیوں کی لوٹ مار شروع کردی ہے اور ایدھی کی سامان سے بھری تین گاڑیاں ڈاڈر اور اندراسی کے درمیان کے علاقہ میں لوٹ لی گئیں۔ مانسہرہ کے قراقرم ہوٹل میں ایک فوجی جوان شہریار نے کہا کہ شاہراہ ریشم پر راستے میں لوگ لوٹ مار کررہے ہیں اور دوائیں بھی چھین کر بیچ رہے ہیں۔ شہریار دواؤں سے بھری ایک گاڑی کو بٹگرام لے جانے کے لیے اس کے ساتھ جارہے تھے۔

 ملک بھر سے امدادی سامان لانے والی گاڑیوں کے ہجوم نے امدادی کام میں مزید رکاوٹ پیدا کردی ہے کیونکہ متاثرہ جگہوں تک جانا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔
عالم زیب

ایک رضا کار شفیق نے کہا کہ جو لوگ ملبہ کے نیچے سے لوگوں کو نہیں نکال سکتے وہ ان علاقوں میں امدادی کام کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں اس لیے ضرورت پھاوڑے چلا کر عمارتیں کاٹنے والوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے پرانے کپڑوں اور رضائیوں کے ڈھیر متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں اور یہ لنڈا بازار بن گیا ہے۔

ایدھی کے اہلکار عالم زیب کا کہنا ہے کہ دشواری یہ ہے کہ خیمے نہیں مل رہے جن کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہزارہ اور وادی کاغان میں مکانات منہدم ہوچکے ہیں اور لوگ سردی میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔ ایدھی سینٹر کے انچارج نے کہا کہ ایدھی مرکز کو ایک بھی خیمہ عطیہ میں نہیں ملا اور بازار میں خیموں کی قیمت چار گنی ہوچکی ہے۔ ڈھائی ہزار کا خیمہ دس ہزار روپے میں مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وادی کاغان میں جگہ جگہ لاشیں گل سڑ رہی ہیں کیونکہ ابھی تک انہیں ملبہ سے نہیں نکالا جاسکا اس لیے سخت بو میں امدادی کام کرنے والوں کو دشواری پیش آرہی ہے اور وہ منہ ڈھانپنے کے لیے ماسک مانگ رہے ہیں لیکن بازار میں ماسک ختم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ عطیہ میں ماسک دیں۔

عالم زیب نے کہا کہ نوے میل پر پھیلی وادی کاغان میں مانسہرہ سے کاغان تک پھیلی وادی میں نوے فیصد دیہات جبکہ ناران وادی میں پچاس فیصد دیہات تباہ ہوچکے ہیں لیکن بالاکوٹ سے آگے جانے والا پل منہدم ہونے کی وجہ سے رضا کاروں کے لیے اگلے علاقوں جیسے گنہول، کیوائی، پارس، بھونجہ، جرید، وادی منور، مہاندری، کاغان اور اس سے آگے راجوال اور ناران تک سڑک کے راستے جانا ممکن نہیں۔

وادی کاغان میں بہت جانی نقصان ہوا ہے لیکن میتیں ابھی تک ملبہ کے نیچے دفن ہیں اور انہیں نکالنے کے لیے کنکریٹ کاٹنے کے آلات اور دوسری مشینری چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تک مقامی لوگ سریہ کاٹنے والی چھوٹی آریوں اور چھوٹے کدالوں سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں جس میں بہت دیر لگتی ہے اور کام بھی زیادہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں میتوں کو نکالنے اور اگر ملبہ میں کوئی زندہ بچ گیا ہے اسے نکالنے کے لیے بڑے کٹرز اور دوسری مشینری چاہیے۔

 نوے میل پر پھیلی وادی کاغان میں مانسہرہ سے کاغان تک پھیلی وادی میں نوے فیصد دیہات جبکہ ناران وادی میں پچاس فیصد دیہات تباہ ہوچکے ہیں لیکن بالاکوٹ سے آگے جانے والا پل منہدم ہونے کی وجہ سے رضا کاروں کے لیے اگلے علاقوں جیسے گنہول، کیوائی، پارس، بھونجہ، جرید، وادی منور، مہاندری، کاغان اور اس سے آگے راجوال اور ناران تک سڑک کے راستے جانا ممکن نہیں۔
انچارج ایدھی سنٹر

ایدھی سینٹر کے مطابق تحصیل مانسہرہ میں بھی ابھی بہت سے علاقوں میں امدادی کام شروع نہیں ہوسکا کیونکہ زمین کے بہاؤ کی وجہ سے سڑکیں بند ہیں اور ساٹھ ہزار آبادی کی وادی بھوگڑہ مونگ کے بہت سے علاقوں تک جانا ممکن نہیں۔ ایدھی سینٹر کے مطابق اس علاقے میں عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں اور لوگ زیادہ تر ہلاک نہیں ہوئے بلکہ زخمی ہیں اور انہیں ملبہ سے زندہ نکالا جا سکتا ہے۔

ایدھی سینٹر کے مطابق منگل کو روز حکومت نے مانسہرہ سے جیوڑی تک کی سڑک ٹریفک کے لیے کھول دی تھی لیکن اس سے آگے سڑک بند ہے۔ ایدھی سینٹر کے انچارج نے کہاکہ وادی کاغان اور ہزارہ کے دور دراز کے علاقوں میں سڑکیں بند ہونے سے امدادی کام میں جتنی تاخیر ہورہی ہے اس سے مرنے والوں کی تعداد میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ایدھی سینٹر کا کہنا ہے کہ وادی کاغان اور وادی بھوگڑہ مونگ میں امدادی کام سڑک کے راستے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے ہیلی کاپٹر چاہییں اور وہ بھی بیس پچیس نہیں بلکہ ایک سو سے زیادہ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد