BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 October, 2005, 04:37 GMT 09:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد پہنچنا شروع، تقسیم غیر منظم

اسلام آباد جانے کی منتظر
اسلام آباد لے جائے جانے کی منتظر

پاکستان میں شدید زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امداد اب پہنچنا شروع ہو گئی ہے لیکن بہت سے لوگوں کو اب بھی سامان نہ ملنے کی شکایت ہے۔

مظفر آباد میں دن نکلنے کے ساتھ اسلام آباد سے ہیلی کاپٹر آنا شروع ہو گئے۔ اس کے علاوہ وہاں فوج کی بھاری نفری موجود ہے اور بڑے پیمانے پر امداد پہنچ رہی ہے۔

یہ درست ہے کہ یہ کارروائیاں پہلے سست تھیں اور اب ان میں تیزی آئی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ امدادی سامان کی غیر منظم تقسیم کا ہے جو عام طور پر گاڑیوں سے پھینکا جاتا ہے اور انہیں حاصل کرنے میں کمزور لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ کسی حد تک خیمے، ادوایات اور کمبل نہ ملنے کی شکایت بھی دور ہوئی ہے لیکن اب بھی شہری علاقوں میں بہت سارے لوگ اس بارے میں شکایت کرتے ہیں۔

اس مسئلے میں بھی زیادہ تر شکایات دیہاتی علاقوں سے آ رہی ہیں جہاں لوگ بہت پریشان ہیں۔

مظفر آباد میں امدادی کارروائی کے ذمہ دار سلیم محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک دو روز میں تمام زندہ افراد کا پتہ چلانے کے بعد ہلاک ہو جانے والوں کی لاشوں کی تلاش کا کام مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ مظفر آباد سے نکل کر دیہاتوں کی طرف بھی توجہ دیں گے۔ انہوں نے کل کچھ دیہاتی علاقوں میں ٹیمیں بھیجیں تھیں لیکن وہاں کوئی زندہ شخص نہیں ملا۔

کشمیر سے بہت سے لوگوں کے اسلام آباد اور راولپنڈی جانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ امداد کی تقسیم کے بارے میں تحفظات کے پیش نظر یہ لوگ یہاں سے جا رہے ہیں۔

کچھ سپاہیوں نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ امداد کی تقسیم پر با اثر لوگ اثر انداز ہو رہے ہیں جن میں سیاستدان اور دیگر افسران شامل ہیں۔

لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کے پاکستانی فوج کی بنکروں کی بحالی میں مدد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شاہ زیب جیلانی نے بتایا کہ مظفر آباد میں کسی کو اس بات کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ فوجیوں سے اس بارے میں بات ہوئی لیکن ان کو کسی ایسی پیش رفت کا وہم و گمان بھی نہیں۔

بہت ہی مقامی سطح پر فوجیوں نے ایک دوسری کی مدد کی جو اتنی انہونی بات نہیں ہے اور ماضی میں بھی ایسی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ فوجی جب بہت لمبے عرصے تک سرحد پر تعینات رہتے ہیں تو ایک دوسرے سے واقفیت پیدا ہو جاتی ہے اور اسی وجہ سے بعض اوقات ایک دوسرے کا چھوٹا موٹا کام کر دیتے ہیں۔

قوی امکان ہے کہ اس مقامی سطح کی پیش رفت کو کچھ لوگ زیادہ اہمیت دے رہے ہوں۔

جہاں تک بھارتی فوج کے باقاعدہ طور پر ایل او سی کے پار آ کر امدادی کاموں میں حصہ لینے کی بات ہے تو فی الحال اس کی نہ کوئی خبر ہے اور اس کا کم ہی امکان دکھائی دیتا ہے۔

66امداد کا انتظار
متاثرین زلزلے کے چار دن بعد بھی کھلے آسمان تلے
66خوراک ہے خیمے نہیں
راولاکوٹ کےمتاثرین خیموں کے منتطر
66کچھ سالم نظر نہیں آتا
سنگھولہ کے ایک متاثرہ شخص کی کہانی
66وڈیو رپورٹیں
پاکستان میں زلزلے کی وڈیو رپورٹیں دیکھیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد