BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 October, 2005, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کچھ ساِلم نظر نہیں آتا‘

بی بی سی کے نمائندے سہیل حلیم نے زلزلے سے متاثرہ علاقے راولاکوٹ کے نواح میں رہائش پذیر جاوید اقبال سے بات کی۔ جاوید اقبال کی کہانی ان کی زبانی:

میرا نام جاوید اقبال ہے اور میرا تعلق راولاکوٹ کے نواحی گاؤں سنگھولہ سے ہے۔ سنگھولہ راولاکوٹ سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور زلزلے کے بعد سے اس گاؤں کے باشندے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے پاس رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ علاقے میں روزانہ بارش ہو رہی ہے اور موسم دن بدن سرد ہوتا جا رہا ہے۔

علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہے اور گاؤں کے باشندوں کے پاس پانی پینے کے لیے برتن تک نہیں ہیں اور لوگ خالی پیٹ روزے رکھ رہے ہیں۔ جو کچھ تھا وہ گھروں کے ملبے میں دب گیا ہے۔

شہر کے آس پاس کے دیہات میں حالات بہت خراب ہیں نہ ہی وہاں کوئی امدادی کارکن گیا ہے اور نہ ہی آرمی۔ اخباری نمائندے بھی ان علاقوں میں نہیں پہنچ سکے ہیں۔ میرے گاوں مںی پچانوے فیصد گھر تباہ ہوقکے ہیں اور اسی حساب سے لوگ مرے ہیں۔ میرا اپنا گھر بھی تباہ ہو گیا ہے اور اس کے برابر جو بچوں کا سکول تھا وہ بھی گِر گیا ہے۔ جہاں تک نگاہ پڑتی ہے کچھ سالم نظر نہیں آتا اور قیامت کا سا سماں ہے۔

راولا کوٹ میں امداد تو پہنچ رہی ہے مگر اس کی تقسیم کا نظام بہت پیچیدہ ہے اور لوگوں تک امداد پہنچ نہیں پا رہی ہے۔ راولاکوٹ میں لوٹ مار کرنے والے لوگ تین چار دن کے بھوکے ہیں۔ یہاں بازار بند ہے اور کھانے پینے کا مسئلہ ہے۔ علاقے میں قحط کی سی صورتحال ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد