’کچھ ساِلم نظر نہیں آتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے نمائندے سہیل حلیم نے زلزلے سے متاثرہ علاقے راولاکوٹ کے نواح میں رہائش پذیر جاوید اقبال سے بات کی۔ جاوید اقبال کی کہانی ان کی زبانی: میرا نام جاوید اقبال ہے اور میرا تعلق راولاکوٹ کے نواحی گاؤں سنگھولہ سے ہے۔ سنگھولہ راولاکوٹ سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور زلزلے کے بعد سے اس گاؤں کے باشندے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے پاس رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ علاقے میں روزانہ بارش ہو رہی ہے اور موسم دن بدن سرد ہوتا جا رہا ہے۔ علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہے اور گاؤں کے باشندوں کے پاس پانی پینے کے لیے برتن تک نہیں ہیں اور لوگ خالی پیٹ روزے رکھ رہے ہیں۔ جو کچھ تھا وہ گھروں کے ملبے میں دب گیا ہے۔ شہر کے آس پاس کے دیہات میں حالات بہت خراب ہیں نہ ہی وہاں کوئی امدادی کارکن گیا ہے اور نہ ہی آرمی۔ اخباری نمائندے بھی ان علاقوں میں نہیں پہنچ سکے ہیں۔ میرے گاوں مںی پچانوے فیصد گھر تباہ ہوقکے ہیں اور اسی حساب سے لوگ مرے ہیں۔ میرا اپنا گھر بھی تباہ ہو گیا ہے اور اس کے برابر جو بچوں کا سکول تھا وہ بھی گِر گیا ہے۔ جہاں تک نگاہ پڑتی ہے کچھ سالم نظر نہیں آتا اور قیامت کا سا سماں ہے۔ راولا کوٹ میں امداد تو پہنچ رہی ہے مگر اس کی تقسیم کا نظام بہت پیچیدہ ہے اور لوگوں تک امداد پہنچ نہیں پا رہی ہے۔ راولاکوٹ میں لوٹ مار کرنے والے لوگ تین چار دن کے بھوکے ہیں۔ یہاں بازار بند ہے اور کھانے پینے کا مسئلہ ہے۔ علاقے میں قحط کی سی صورتحال ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||