کوہستان، نواح میں سینکڑوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوہستان اور گرد و نواح سے آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ زلزلے سے ان کے علاقوں میں سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہیں اور پانچ دن گزرنے کے باوجود انہیں کسی قسم کی کوئی امداد نہیں مل سکی۔ بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوہستان اور اس کے نواحی علاقوں میں لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ اصل نقصان کتنا ہوا ہے۔ تاہم ہمارے نامہ نگار نے وہاں سے میلوں کا سفر کرکے صوبہ سرحد کے شہروں میں آنے والوں سے بات کرنے کے بعد بتایا ہے کہ پانچ دن بیت جانے کے بعد بھی بیشتر چھوٹے قصبوں میں لوگوں کو کسی قسم کی کوئی امداد نہیں مل سکی۔ کوہستان سے واپس آنے والوں نے شکایت کی ہے کہ گزشتہ پانچ دن کے دوران ایک مرتبہ ایک ہیلی کاپٹر بالا کوٹ سے دو لاشیں لے کر وہاں پہنچا مگر اس کے بعد کوئی ہیلی کاپٹر آیا نہ امداد۔ کوہستان اور نواحی علاقوں میں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، کئی لوگ ابھی تک ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کے پاس خوراک نہیں ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کوہستان کے ہیڈ کوارٹر داسو میں زخمیوں کے علاج کے لیے دوائیاں تک نہیں ہیں۔ یہاں پر زخمی ہونے والوں کو چلاس پہنچایا گیا ہے۔ کوہستان کے علاوہ بٹگرام کے ضلع الائی میں لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں بھلا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کی تمام تر توجہ اسلام آباد اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر پر ہے۔ متاثرہ علاقوں سے لوگ پیدل چل کر دیگر علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ آنے والے بتاتے ہیں کہ مقامی لوگوں کے بس میں جو کچھ ہے وہ کر رہے ہیں لیکن وہاں کچھ نہیں بچا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||