دیہاتوں کےدیہات اجڑ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے اردگرد کے علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں بہت سے دیہاتوں میں زلزلے سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جہاں اب تک کوئی رسائی نہیں ہوسکی اور ان کا رابط ملک کے باقی علاقوں سے منقطع ہے۔ میلوں پیدل سفر کرکے مظفرآباد پہنچے والے لوگوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ زلزلے سے ہونے خوفناک تباہی ہوئی ہے اور اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایک دیہاتی نے جو نیلم ویلی سے میلوں کا سفر کر کے مظفرآباد پہنچا تھا بتایا کہ اس کے خاندان کے تیس لوگ زلزلے میں ہلاک ہو گئے۔ پاکستان فوج کے بریگیڈیئر اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں ہونے والی جانی نقصان کے بارے میں کوئی اندازہ لگانا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے علاقوں تک ابھی تک رسائی نہیں ہوسکی۔ تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف مظفرآباد، راولاکوٹ اور باغ میں بیس ہزار سے زیادہ لوگوں کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔ مظفرآباد میں اس نگہانی آفت کے چوتھے روز امدادی کاموں میں کچھ تیزی دیکھنے میں آئی جب مختلف ملکوں سے امدادی ٹیمیں مظفرآباد پہنچ گئی۔ ان میں جاپان، جرمنی، فرانس اور ہالینڈ سے آنے والی امدادی ٹیمیں شامل ہیں۔ ابھی تک یہ ہی اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ گزشتہ تین دنوں میں مظفرآباد میں کتنی لاشیں دفنائی گئی ہیں۔ منگل کو شدید بارشوں سے موسم میں آنے والی تیدیلی سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ تین دنوں سے ہزاروں لوگ کھلے آسمان تلے راتیں گزار رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||