BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 October, 2005, 03:36 GMT 08:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی ایشیا میں زلزلے 25 کیوں آئے؟

بالاکوٹ
بالاکوٹ میں سکول کی عمارت سے نکالی جانے والی ایک بچی
غیرسرکاری طور پر امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں کی متعدد تنظیمیں زلزلے کے متاثرین کی امداد کیلیے سرگرم ہوگئی ہیں جن میں امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ’اپنا‘ یا ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشنز آف نارتھ امریکہ بھی شامل ہے۔

دوسری طرف، امریکی جیالاجیکل سروے نے پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے شما ل میں آنے والے حالیہ زلزلوں کی شدت سات سے چھ کے حجم کی بتاتے ہوئے جمعہ سے سنیچر کی صبح کے درمیان پچیس جھٹکے ریکارڈ کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ یہ بات ارضیات کے متعلق اس امریکی ادارے نے ایک بیان میں بتائی ہے۔

امریکی محکمۂ داخلہ کے جیالوجیکل سروے کے زلزلوں کے بارے میں قومی اطلاعاتی مرکز نے ایک زلزلہ پیما کی تحقیق کے حوالے سے گزشتہ ہفتے کی صبح شمالی پاکستان سے لے کر شمالی بھارت تک آنے والے زلزلے کی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں زلزلے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان اور اس سے ملحق افغانستان اور بھارت کے علاقوں میں آنیوالے زلزلے اور زمیں میں دراڑیں برصغیر پاک و ہند کی زمین کے چالیس ملی میٹر یا ایک اعشاریہ چھ انچ شمال کی جانب سرکنے اور بر یوریشیا کی تہ یا زمین سے ٹکرانے کا نتیجہ ہے۔ یہ تصادم زمین کی اس اٹھان یا ابھار کا موجب بن رہا ہے جس نے ہندوکش، ہمالیہ، قراقرم اور پامیر کے علاقوں سمیت دنیا میں بلند ترین پہاڑی چوٹیوں کو پیدا کیا ہے۔ جیسے ہی ہندستانی زمین کی پرت یا تہ شمال کی جانب بڑھتی ہے وہ یوریشیائی زمینی تہ کے نیچے کھسک جاتی ہے۔ زمین کی ٹکراتی ہوئی ان دو پرتوں پر پڑنے والا دباؤ ان بڑے زمینی شگافوں پر مسلسل پڑ رہا ہے جو اس زمین کی سطح پر اور ان پہاڑوں کے تلیٹی میں ہیں۔

امریکی محکمہ داخلہ یا یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف انٹیرئر نے ارضیاتی سروے کے زلزلے پیما شعبے کے اندازوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر سلسلوں میں ہر ایک بھونچالی دراڑ کو شناخت کرنا مشکل ہے لیکن شمال اور شمال مشرق میں زمین کی تہوں کے اندر پیدا ہونے والے مسلسل دباؤ کے نتیجے میں پڑنے والی دراڑیں اور زلزلے کا مرکز مظفرآباد شہر کے قریب ہے۔ یہ ادارہ امریکہ میں ہونیوالے ارضیاتی واقعات اور آفات پر کام کرتا ہے اور اس کا زلزلوں کے متعلق ایک قومی اطلاعاتی مرکز بھی ہے لیکن یہ دنیا بھر میں ارضیات کے اہم اور سنگین تبدیلیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی ارضیاتی سروے کے زلزلوں کے متعلق قومی اطلاعاتی مرکز کا کہنا ہے کہ اب تک سائینس نے ایسا کوئی آلہ یا طریقہ ایجاد نہیں کیا جس سے دنیا میں آنیوالے زلزلوں کی پشین گوئی کی جا سکے اور یہ کہ زلزلے کا موسم سے بھی کوئی تعلق نہیں اور زلزلہ کسی بھی موسم میں آسکتا ہے۔

امریکی اخباروں نے آج ( اتوار کو ) پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں آنے والے زلزلے اور خبروں کو پہلے صفحات پر بڑی شہ سرخیوں سے شائع کیا ہے۔

اخبار شکاگو ٹریبیوں نے بالاکوٹ میں ایک رپورٹر کے مشاہدات چھاپتے ہوئے لکھا ہے کہ چھ سے دس سال کے بچوں کی لاشیں لوہے کی ایک بڑی چادر پر ایک قطار میں پڑی ہوئی تھیں جبکہ ان پر بین کرنے والےلواحقین ان بچوں کی لاشیں ڈھانپنے کے لیے کپڑے اور چادريں تلاش کر رہے تھے۔ تمام اخبارات نے اسے ایشیائی یا جنوبی ایشیائی زلزلہ قرار دیتے ہوئے مرنے والوں کی تعداد تیس ہزار بتاتے ہوئے اس تعداد کے بڑھنے کے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے زلزلے کے خبر میں پاکستان کے شمالی علاقوں کے متعلق ایک جگہ لکھا ہے پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے ملحقہ انہی علاقوں میں اسامہ بن لادن اور اسکے ساتھیوں کے چھپے ہونے کے متعلق بتایا جاتا ہے جس کی بہرحال پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں تردید کرتی ہیں۔ جبکہ ایک اخبار نے زلزلے سے متاثر ہونیوالے مانسہرہ کیلیے کہا ہے کہ اسی علاقے میں دہشت گردی کی تربیتی کیمپ قائم ہیں۔

پاکستان میں زلزلے کی خبرین نمایاں اور شہ سرخیوں میں شائع کرنے والے اخبارات میں واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز، لاس اینجلس ٹائیمز، شکاگو ٹریبیون اور بوسٹن گلوب بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد